قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ، ملک بھر میں موبائل بینکنگ کے50لاکھ فراڈ ہونے کا انکشاف
اسلا م آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں انکشاف ہواہے کہ ملک بھر میں موبائل بینکنگ کے50لاکھ فراڈ ہوتے ہیں،جعلی سمیں عام ہیں پی ٹی اے،ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کررہے اورعوام کو لوٹا جارہاہے،موبائل کمپنیوں کی طرف سے ایمرجنسی نمبر پر کال کرنے کے پیسے کاٹنے پر پی ٹی اے حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیاگیا جبکہ کمیٹی نے ایس ٹی جیز کے تحت تین سال میں خرچ ہونے والے پیسوں کی تفصیل مانگ لی،پی ٹی ڈی سی حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ سیاحت کے فروغ کے لیے اسلام آباد میں دس منزلہ ایوان سیاحت بنایاجائے گا،کمیٹی نے ایوان سیاحت پر بریفنگ طلب کرلی۔ جمعرات کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس محسن داوڑ کی زیرصدارت پارلیمنٹ میں ہوا۔ اجلاس میں کابینہ ڈویژن اور اس کے ماتحت ادارو ں کے پی ایس ڈی پی کاجائزہ لیاگیا۔سکستھ ایوی ایشن سکواڈرن کے حکام نے بتایا کہ کہ ہمیں فنڈز کے مسائل ہیں۔کمیٹی نے ایوی ایشن سکواڈرن کی پی ایس ڈی پی کی منظوری دے دی۔این ٹی ڈی سی حکام نے بتایاکہ ہمارا پی ایس ڈی پی میں ایوان سیاحت کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔حکومت کی سیاحت کوفروغ دینے کی پالیسی ہے غیر ملکی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایوان سیاحت تعمیر کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں پی ٹی ڈی سی کے پلاٹ پر ایوان سیاحت بنایا جائے گا۔دس منزلہ عمارت تعمیر ہوگی تین منزلیں حکومت تعمیر کرے گی باقی 7منزلیں پی پی پی موڈ پر بنائے جائیں گے۔4422ملین روپے کل خرچ ہوگا اور 11سال میں پیسے واپس ہوجائیں گے۔65%حکومت کا شیئر ہوگا۔کمیٹی نے پی ٹی ڈی سے سے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی اور کہاکہ اس کے بعد ہی پی ایس ڈی پی کی منظوری دی جائے گی۔حکام نے ایس ٹی جیز کے حوالے سے بتایا کہ ایس ٹی جیز میں 26500منصوبے جاری ہیں اس سال 46ارب روپے رکھے گئے تھے دس ارب مزید رکھے گئے اب کل مالیت 56ارب کی ہوگئی ہے۔56ارب میں 55ارب روپے صوبوں اور وزارتوں کو دے دیئے گئے ہیں۔ارکان نے کہاکہ ایس ٹی جیز میں سب کو پیسے نہیں دیئے جاتے ہیں صرف حکومتی ارکان کو پیسے ملتے ہیں۔کمیٹی نے ایس ٹی جیز کے تحت تین سال میں خرچ ہونے والے پیسوں کی تفصیل مانگ لی۔علی نواز نے کہاکہ موبائل فون کمپنیاں ایمرجنسی نمبرز پر کال کے پیسے کاٹتے ہیں۔کمیٹی نے پی ٹی اے کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔حکام نے بتایاکہ موبائل بینکنگ کے پاکستان میں 50لاکھ فراڈ ہوتے ہیں مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے موبائل بینکنگ کے حوالے سے ایف آئی آئی کوئی تعاون نہیں کررہاہے۔


