بلوچستان کے میڈیکل کالجز کے طلباء کی تادم مرگ بھوک ہڑتال تشویشناک ہے، بلوچستان بار کونسل
تربت (انتخاب نیوز)بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قاسم علی گاجی زئی،چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی ایوب ترین،ممبران بار کونسل راحب خان بلیدی اور امان اللہ کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں پی ایم سی کی پالیسیوں اور حکومت بلوچستان کی جانب سے مکران میڈیکل کالج،جھالاوان میڈیکل کالج اور لورالائی میڈیکل کالج کے طلباء کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے میڈیکل کالجز کے طلباء و طالبات عرصہ دراز سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں اور احتجاج کے بعد حکومت بلوچستان اور گورنر بلوچستان کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن تاحال اس کمیٹی کا نہ تو کوئی میٹنگ ہوئی ہے نہ ہی طلباء کے اہم مسائل پر توجہ دی جارہی ہے،بیان میں کہا کہ بلوچستان کے میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات عرصہ دراز سے جھالاوان،مکران اور لورالائی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بیان میں کہا کہ ان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات ایچ ای سی،این ٹی ایس اور تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا پھر ان کا داخلہ ہوا اب چار سال گزرنے کے بعد اور میڈیکل کالج کو رجسٹریشن کرنے کے بعد طلباء سے اسپیشل ٹیسٹ کا ڈیمانڈ کرنا خلاف قانون ہے،بیان میں کہا گیا کہ ان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات نے بلوچستان ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا ہے ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پی ایم سی کی جانب سے طلباء و طالبات سے اسپیشل ٹیسٹ کا مطالبہ توہین عدالت ہے،بیان میں کہا کہ بلوچستان بار کونسل طلباء کے ساتھ ہے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں اگر کسی بھی طلباء کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری پی ایم سی اور حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔


