سیندک پروجیکٹ، 15 سالہ غیرآئینی معاہدہ بلوچستان حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے،نیشنل پارٹی

نوکنڈی :نیشنل پارٹی چاغی کے پریس ریلیز میں سیندک پروجیکٹ پروفاق کی جانب سے 15 سالہ غیرآئینی معاہدہ بلوچستان سے سلیکٹڈوکٹھ پتلی حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ اور اٹھارویں ترمیم سے روگردانی ہے جسے نیشنل پارٹی و بلوچستان کے لوگ کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے،بیان میں کہا گیا کہ چائنیزکمپنیاں بلوچستان میں لوٹ مار کر نے کے ساتھ جاگیردارانہ سوچ کے تحت بلوچستان کے لوگوں کو غلامانہ طرز پر چلارہی ہیں جسکا واضح ثبوت سیندک پروجیکٹ میں ملازمین کے ساتھ بدترین مظالم ومقامی آبادی کے ساتھ ناانصافیاں جاری ہے، انہوں نے کہاکہ کورونا کے نام پر ایک طرف اربوں روپے چائنیزمینجمنٹ پاکستانی آفیسران کی ملی بھگت سے کرپشن کررہے ہیں تو دوسری جانب پاکستانی ملازمین کوایس اوپیزکے نام پرتشدد تک گریز نہیں کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان و اداروں کے سپورٹ سے چائنیزمینجمنٹ نے ریاست کے اندر الگ ریاست قائم کی ہوئی ہے،سیندک پروجیکٹ میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہاں پاکستان میں پاکستان کا کوئی قانون یا کوئی ادارہ موجود ہے جو اپنے لوگوں کے ساتھ چائنیز آفیسران کے ناجائزوناروا سلوک پر انہیں روک سکیں بلکہ برعکس بعض اداروں کے آفیسران ملازمین کو احتجاج سے روکنے کے لئے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کررہے، انہوں نے کہاکہ ایسی کمپنیوں کو بلوچستان کی مرضی کے بغیر پندرہ سالہ غیرآئینی غیرقانونی معاہدہ میں توسیع کرانا کالونیل سوچ کی عکاسی کرتا ہے، نیشنل پارٹی ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی سیندک پروجیکٹ میں چائنیزمینجمنٹ پاکستانی افسران کے کرپشن ملازمین پر مظالم اور مقامی آبادی کا استحصال برداشت کریگی اسکے خلاف ہرسطح پر احتجاج کاسلسلہ جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں