کرپشن بے نقاب کرنے پر غلیظ زبان استعمال کی گئی، مجھے دلیل سے نہیں غلیظ گالیوں سے جواب دیا جاتا، مراد سعید

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ کرپشن بے نقاب کرنے پر غلیظ زبان استعمال کی گئی، مجھے دلیل سے نہیں غلیظ گالیوں سے جواب دیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو شکایات قانونی حق ہے، کارروائی کیسے ہوئی؟ یہ سوال متعلقہ ادارے سے پوچھا جائے، 13سال بعد پاکستان پوسٹ کوخسارے سے نکالا۔ ہم نے اپنے ادارے میں کرپشن کے دروازے بند کردیئے۔ عالمی ادارے آئی ایس او نے بھی میری وزارت کی کارکردگی کو مانا، این ایچ اے کی آمدن میں 107ارب کا اضافہ ہوا، دو موٹروے پر ٹیکس 2015 میں نوازشریف کے معاہدے کی وجہ سے بڑھایا۔ مسلم لیگ(ن)کے دورسے سستی سڑکیں بنائیں، جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرادسعید نے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف تحریکوں میں مسلسل حصہ لیا، ڈنڈے کھائے اور جیلوں میں گیا، آئی ایس ایف کو پورے پاکستان میں منظم کیا۔ پارلیمنٹ میں ان کی جی حضوری نہیں، عوام کی آوازبننے آیا تھا۔ یہ لوگ پارلیمنٹ کو اپنی جاگیر، سیاست کو اپنا کاروبارسمجھتے ہیں، میں نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد مقام حاصل کیا، ڈگری کے مسئلے پرعدالت سے سرخروہوا۔انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ کہ پرفارم کرنا اتنا بڑا گناہ ہوتا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ ان سیاست دانوں کی نظر میں ہماری کوئی اوقات نہیں لیکن جب ہمارے جیسے لوگ سیاست میں کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو یہ سیاست دان ہم پر غلیظ الزامات لگانے لگتے ہیں۔ میں نے دیئے گئے تمام اہداف کو سو فیصد تک مکمل کیا، ملک میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ میں تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹس ونگ کا بانی ہوں اور اسٹوڈنٹ ونگ کو کافی کم عرصے میں خیبر پختونخوا میں فعال کیا۔ 2013کے انتخابات میں پارٹی نے مجھ پر اعتماد کیا لیکن میں پارلیمنٹ میں جی حضوری کرنے نہیں آیا تھا اور میں نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس اور ڈرون حملون کے خلاف باہر نکلنے والوں میں میں بھی شامل تھا اور عدلیہ بحالی تحریک میں بھی حصہ لیا۔ 2018کے انتخابات سے پہلے میرے خلاف مہم چلائی گئی۔مراد سعید نے کہا کہ ڈگری کے معاملے پر بھی میں عدالت سے سرخرو ہوا۔ پارلیمنٹ میں رانا ثنااللہ، حافظ حمد اللہ، قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ کو میرے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے اور یہ لوگ میرے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں لیکن میں کارکردگی کی بنیاد پر وزیر بنا ہوں۔ وفاقی وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ ایک قانونی اور دوسرا غیرقانونی راستہ ہوتا ہے، میں نے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ میری 8 سال کی تقریریں سن لیں کبھی غلیظ زبان استعمال نہیں کی۔ پاکستانیوں یہ ہرنوجوان کے لیے وارننگ ہے، ان کی مہم کے باوجود میں نے ڈیلیور کیا، نئے عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں یہ مجھے دیکھیں گے۔ بحیثیت پاکستانی اپنا قانونی حق استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ کتنے ٹارگٹ تھے لیکن وزارت مواصلات کو 88 اہداف ملے تھے اور وہ سب مکمل کیے۔ 3 سال کے دوران 2 ہزار 32کلومیٹر سڑکیں بنائیں۔ این ایچ اے کی آمدن میں 107ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ 117ٹول پلازوں میں سے کسی پر بھی ٹیکس نہیں بڑھایا اور پاکستان کی 13ہزار شاہراہوں کی میپنگ مکمل کی۔وزیر مواصلات نے کہا کہ میانوالی مظفر گڑھ سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے میں ایک نئے عزم کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے آیا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں