13دینی جماعتوں نے پیکا قانون فسطائیت قرار دیکر مسترد کر دیا
لاہور :13جماعتی تحفظ ختم نبوت الائنس کے کنوینر علامہ محمد ممتاز اعوان ، متحدہ علماءکونسل کے سربراہ مولانا عبدالرو¿ف ملک ، جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ورلڈ پاسبان کے ختم نبوت کے امیر پیر سلمان منیر، نائب امیر مولانا محمد الیاس چنیوٹی مسلم لیگ (علماءو مشائخ) کے چیرمین پیر ولی اللہ شاہ بخاری، حافظ شعیب الرحمن قاسمی جے یو پی (نیازی ) پنجاب کے صدر علامہ عاشق حسین رضوی، مجلس احراراسلام کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری میاں محمد اویس ، جے یو آئی کے رہنماءڈاکٹر محمود الحسن قاسمی،متحدہ جمعیت اہلحدیث کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد نعیم بادشاہ، جمعیت اہل سنت کے سربراہ مفتی غلام حسین نعیمی تحریک ملت جعفریہ کے رہنماءعلامہ تنویر الحسن نقوی، مصطفائی جسٹس مومنٹ کے چئیرمین میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ، عالمی تحریک دعوت الحق کے ناظم اعلیٰ مولانا سیداحسان اللہ شاہ بخاری، اور مولانا محمد اسلم ندیم حافظ نیاز احمد بنگلانی ، قاری محمد حنیف حقانی مفتی محمد اسد نیاز، علامہ محمد وقاص حیدر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں آزاد صحافت پر قد غن لگانے کے ضمن میں پیکا ایکٹ کو فسطائیت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی معاشرے کا حسن و زینت ہوا کرتی ہے جب کہ آزادصحافت کو دبانا حق سچ کی آواز کی دبانے کے مترادف ہے واضح رہے کہ آزاد صحافت کا گلہ دبانے سے معاشرہ جنگل کی شکل اختیار کر لیتا ہے آزادی رائے ہر شہری کا بنیادی و آئینی حق ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے یہ ریماکس کہ اطہار رائے پر بابندی نہیں لگ سکتی آئین کی پاسداری اور بائیس کروڑ پاکستان قوم کی آواز ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ غیر جمہوری و غیر آئین پیکا ایکٹ واپس لے کر صحافیوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانا بند اور ممتاز صحافی محسن بیگ کو فی الفور رہا کرے نیز 13جماعتوں ان رہنماو¿ں نے مزید کہا ہے کہ مشکل کی ا س گھڑی میں ہم صحافتی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں اور آزادی صحافت کی جد و جہد میں ہمیشہ کی طرح ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔


