پیکا ترمیمی آرڈیننس حقائق چھپانے کی کوشش ہے ،مولاناعبدالقادر لونی
کوئٹہ:جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب امیر مولاناعبدالقادر لونی ،مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین مرکزی سرپرست اعلیٰ مولانا ڈاکٹر شمس الہدیٰ ،مرکزی نائب امیر مولانا عبدالروف ،مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نجیم خان ایڈوکیٹ ،مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانامحمودالحسن قاسمی ،نائب امیر مولاناعزیزاحمدشاہ امروٹی ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس حقائق چھپانے کی کوشش ہے ،کالے قانون کے سہارے سے حکومت کے کارکردگی خلاف آواز اٹھانے والے کو خاموش کرانا چاہتے ہیں یہ آرڈیننس پرنٹ اور الیکٹرونک کو دبانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے آزادی اظہار رائے کو کالا قانون کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کو قوم نے پہلے بھی مسترد کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ جمہوری دعوایدار آمرانہ، اور غیر جمہوری سوچ کی بیج بوئی جارہی ہے دنیا آزادی اظہار رائے کی جانب گامزن ہے لیکن یہاں آزادی رائے کو چھینا جارہا ہے تمام آمرانہ قانون و اقدامات کیخلاف جمعیت نظریاتی صحافتی تنظیموں کے احتجاج اور موقف کی تائید کرتی ہے اور حکومت پیکا آرڈیننس کی فوری طور پر واپس لیا جائے ،انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت ہی میں اس ملک کی تعمیر ترقی کا راز مضمر ہے اور اسی کے ذریعے ملک میں جمہوریت مستحکم و مضبوط ہو گی ،آمریت کا راستہ رکے گا اور احتساب کا عمل آگے بڑھے گا ،انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کی شوشہ سےمیڈیا کا گلہ گھونٹنے جارہے ہیں فیک نیوز کے خاتمہ کے لئے قانون سازی کے بجائے فیک نیوز کی تخلیق کردہ قوتوں کو لگام لائے جنہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے فیک نیوز کو پروان چڑھاتی چلی آرہی ہے ،انہوں نے کہا کہ جب تک آزادی اظہار رائے نہیں ہو گی تو نہ صرف میڈیا سے بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی آزادیاں بھی سلب ہو جاتی ہیں ہر دور میں صحافیوں نے آزادی سلب کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائی جو بھی ڈکٹیٹر کا دور بھی آیا تو اس کے خلاف صحافت کا ایک کردار ہے میڈیا آئین کی بالادستی جمہوریت کی آزادی میں ہمیشہ شانہ بشانہ رہے اس کی باوجود ملک میں دن بدن میڈیا کے لیےمسائل پیدا کررہے ہیں صحافیوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے دباو¿ میں لائے جارہے ہیں


