دینی مدارس کی خدمات کفری قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے ،مولاناعبدالقادر لونی
کوئٹہ: جامعہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ موسیٰ کالونی کے سالانہ جلسہ دستار فضیلت سے جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب امیر مولاناعبدالقادر لونی ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانامحمودالحسن قاسمی مولاناضلعی امیر مولانا قاری مہراللہ مولانانائب امیر مولانا نیازمحمد مولاناحافظ کریم داد مولاناعبدالمنان ،مولانا فضل الرحمن ،مولانا جلات خان ،مولانامحمد ایوب ، مولانامحمد برات ،مولاناعبدالقدیم ودیگر قائدین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کی خدمات کفری قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے اہل مدارس کے مختلف میدانوں اور محاذوں پر دین اسلام کے دفاع اور پھیلنے کے لئے خدمات سے امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا ، سویت یونین کے شکست کے بعد امریکہ اتحادیوں سمیت عبرتناک شکست سے دوچار کیا اہل مدارس نے غزنوی ، ایوبی کی تاریخ کو دہرا کر اسلام دشمن استعمار کو لوہے کے چنے چبوائے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا غرور خاک میں ملا دیا تمام دنیا کی عسکری اور سیاسی قیادت امریکہ کے سامنے سرنڈر ہونے کی باوجود طالبان نے دن میں تارے دکھائے طالبان کے غیر متزلزل یقین اور مجاہدانہ استقامت وقربانیاں تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی، اہل مدارس نے اسلام کی دفاع اپنے خونِ جگر سے کی اور اسلام کی آب یاری کی، حریت و آزادی ،حقیقی اسلامی نظام کے قیام اور اعلاءکلم اللہ کے لئے کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں ہوگی جلد دنیا پر انقلاب آئیگا روس کی ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد اب امریکہ کی باری ہے ،انہوں نے کہا کہ مدارس دین کی خدمت،حفاظت اور اشاعت کا ایک ایسا مورچہ ہے جو ہر دینی تحریک کا کا منبع اور سرچشمہ ہے پورے عالم میں دین کے تحفظ وبقاءاور دین کا فیض پھیلنے کا ذریعہ ہے ،انہوں نے کہا کہ اکابرین دیوبند نے مدارس کو ایک ایسے خود مختار اور آزاد ادارے کے طور پر تشکیل دیا جس کا انحصار اور دارومدار کسی حکومت، کسی این جی آوز اور ظاہری اسباب پر ہرگز نہ تھا بلکہ محض توکل علی اللہ اور اخلاص نیت کی بنیاد پر اس خطہ میں مدارس کی بنیاد رکھی گئی اور الحمدللہ آج تک مدارس کی بقائ،مدارس کے فیض کے عام ہونے،مدارس کے موثر کرداروبرکات میں وہی جذبہ،وہی اخلاص اور وہی توکل کار فرماہے ،انہوں نے کہا کہ کفر اور طاغوت کی سرکوبی کے لئے مدارس نے صف اول کا کردار ادا کیاہے ،انہوں نے کہا کہ دینی مدارس نے جہادی تحریکات سے انگریز سامراج اور سویت یونین اور امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی50 سے زائد ممالک کو شکست سے دوچار کردئیے ،انہوں نے کہا کہ مدارس اصحاب صفہ کی ایک جیتی جاگتی تسلسل ہے ،دینی، روحانی،جہادی و معاشرتی اصلاح کے مراکز ہے قرآن و سنت کی تعلیم اور دینی علوم کی اشاعت و فروغ کا باعث بنتے ہیں،عام مسلمانوں کو عبادات، دینی رہنمائی، اور مذہبی تعلیم کے لئے رجال کار فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں،عام مسلمانوں کے عقائد، عبادات، اخلاق، اور مذہبی کردار کا تحفظ کرتے ہیں اور دین کے ساتھ ان کا عملی رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں،اسلام کے خاندانی نظام اور کلچر و ثقافت کی حفاظت کر رہے ہیں، اور غیر اسلامی ثقافت و کلچر کی یلغار کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لئے مضبوط حصار کی حیثیت رکھتے ہیںوحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے مکمل اور محفوظ ذخیرہ کی نہ صرف حفاظت کر رہے ہیں بلکہ سوسائٹی میں اس کی عملی تطبیق کا نمونہ بھی باقی رکھے ہوئے ہیں تاکہ نسل انسانی کے وہ سلیم الفطرت لوگ جو ”عقل و خواہش“ کی مطلق العنانی کے تلخ اور تباہ کن معاشرتی نتائج کو محسوس کرتے ہیں اور جن کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، انہیں وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے حقیقی سرچشمہ تک رسائی میں کوئی دقت نہ ہو اس طرح یہ مدارس صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔


