21 مارچ کو ملگ گیر احتجاج اور کلاسز بائیکاٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں،بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے قائد اعظم یونیورسٹی کے اسکالر حفیظ بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل (اسلام آباد) کی جانب سے 21 مارچ کو ملگ گیر کلاسز بائیکاٹ کال کی مکمل حمایت کی ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ طلباءکا حفیظ بلوچ کی بازیابی کیلئے احتجاج جاری ہے لیکن حفیظ بلوچ کو ابتک منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ترجمان نے 1 نومبر 2021 کو جامعہ بلوچستان کے دو طالبعلموں سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی پر بھی گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید احتجاج اور صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی بائیکاٹ کے بعد حکومتی کمیٹی کی یقین دہانی پر طلباء تنظیموں نے احتجاج موخر کیا تھا لیکن 5 مہینے گزرنے کے بعد بھی لاپتہ طالبعلموں کو بازیاب نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلے ہی سے طلباءکے گمشدگی کا مسئلہ چل رہا ہے لیکن اب وفاق اور پنجاب میں پڑھنے والے بلوچ طلباءکو لاپتہ کیا جارہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ جبری گمشدگیوں کی وجہ سے طلبائ زہنی کوفت میں مبتلا ہیں اور انکے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں تمام تمام طلبہ تنظیموں، اساتذہ کرام اور تعلمی اداروں کے سربراہان سے پرزور اپیل کی ہے کہ 21 مارچ کو ہونے والے ایک روزہ کلاسز بائیکاٹ کو کامیاب بنا کر احتجاج پر بیٹھے طلباءکی آواز بنیں۔


