کردستان سے اسرائیل کو گیس ترسیل کے معاہدے پر نشانہ بنایا،ایران

تہران، بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراقی اور ترک حکام نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے خودمختارعلاقے کردستان سے ترکی اور یورپ کو اسرائیل کی مدد سے گیس کی ترسیل کے ایک مجوزہ منصوبہ کی بناپرایران نے رواں ماہ کرد دارالحکومت اربیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا کیونکہ وہ اس منصوبے پر نالاں ہے۔13مارچ کواربیل پرمیزائل حملہ پورے خطے کے حکام کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا اوروہ اس پر ہکا بکا رہ گئے تھے کیونکہ اس میں ایک حقیقی ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا تھا اور ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے عوامی سطح پرشاید پہلی مرتبہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس حملے میں اربیل میں اسرائیل کے تزویراتی مراکزکو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ شام میں اسرائیلی فضائی حملے کا انتقام تھا۔شام میں اسرائیلی بمباری سے اس کے دوارکان ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم ہدف کے انتخاب نے بہت سے عہدے داروں اور تجزیہ کاروں کو چکرا کررکھ دیا۔ 12 میزائلوں میں سے زیادہ تر خود مختارکردستان خطے میں توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک معروف کرد تاجر کے ولا سے ٹکرائے تھے۔عراقی اور ترک حکام نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرکہا کہ یہ حملہ خطے میں امریکی اتحادیوں کے لیے کثیرالجہت پیغام تھالیکن ایک اہم محرک ترکی اور یورپ کے لیے کردستان سے گیس کی ترسیل کا منصوبہ ہے۔اس میں اسرائیل بھی شامل تھا۔عراق کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا کہ میزائل حملے کا ہدف ولا میں حال ہی میں اسرائیل اورامریکا کے توانائی حکام اورماہرین کے درمیان دوملاقاتیں ہوئی ہیں۔ان میں کردستان گیس کو نئی پائپ لائن کے ذریعے ترکی ترسیل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ اور پاسداران انقلاب نے فوری طور پر اس موضوع پر تبصرہ نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں