ٹی وی لائسنس کیس، عدالت کی ڈی جی لائسنسگ پیمرا کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت

اسلام آباد (انتخاب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے پیمرا کی استعداد سے زیادہ ٹی وی لائسنس جاری کرنے کیخلاف کیس پر سماعت کی دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ لائسنس کی بنیاد بنانے والی سٹڈی رپورٹ کہاں ہے؟جس پر پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس رپورٹ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو پبلک نہیں کر سکتے ہو سکتا ہے فریقین اس کا غلط استعمال کریں رپورٹ کا متعلقہ حصہ پیمرا وکیل نے عدالت میں پیش کر دیاڈیجیٹلائزئشن کی طرف جاتے ہوئے زیادہ لائسنس جاری کئے جا سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں تو کہیں نہیں لکھا کہ زیادہ لائسنس دینا مناسب ہے جس نے بھی اس رپورٹ کی روشنی میں زیادہ لائسنس کا آرڈر دیا وہ اسے سمجھا نہیں مناسب یہی ہے عدالت یہ آرڈر کالعدم قرار دےمعاملہ واپس پیمرا کو بھیج دیتے ہیں فریقین کو سن کر فیصلہ کر لیں جس پر پی بی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر معاملہ واپس پیمرا کو بھیجنا ہے تو آزاد کنسلٹنٹ بھی مقرر کریں پہلے بھی دو بار یہ معاملہ پیمرا کو بھیجا جا چکا فائدہ نہیں ہواآزاد کنسلٹنٹ سے سٹڈی کرا لی جائے کتنے ٹی وی چینلز کی گنجائش ہے جب تک آزاد شفاف سٹڈی نہ آجائے پیمرا کو نئے لائسنس جاری کرنے سے روکا جائے ابھی ہم اینا لاگ سسٹم پر چل رہے ہیں دو سو چینل کی گنجائش نہیں پیمرا کوئی ایک دستاویز دکھا دے کہاں اتنے چینلز کی گنجائش ہے؟ پیمرا زیادہ چینل کی گنجائش دکھا دے ہم کیوں نئے چینلز کی مخالفت کریں گے؟ براڈ کاسٹرز ایسوسی کا تو نئے ممبرز کی آمد سے فائدہ ہو گا لیکن گنجائش ہونا ضروری ہے اگر زیادہ چینل کی گنجائش ہو اور ہم مخالفت کریں تو بے شک ہرجانے کیساتھ درخواست خارج کریں جس پر عدالت نے کہا کہ ڈی جی پیمرا سے بیان حلفی لے لیتے ہیں کہ زیادہ چینل کی گنجائش موجود ہے۔ اس موقع پر پیمرا وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی نہیں ہم آپ کو رپورٹ دے دیتے ہیں کتنی گنجائش ہے۔ یہ بیان حلفی جمع کرانے سے ہچکچا رہے ہیں یوں بھی کل جو کچھ ہوا اس کے بعد میں ریاست پر یقین نہیں کر سکتاعدالت نے پیمرا کے ڈی جی لائسنسگ کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی چینلز کی گنجائش سے متعلق رپورٹ جمع کرائی جائے اس موقع پر وکیل پی بی اے نے عدالت کو بتایا کہ زیادہ چینلز ہونے پر کیبل آپریٹر کی مرضی ہو جائے گی کسے چلائے کسے نہیں کیبل آپریٹرز کو جو پیسے دے گا صرف اس کا چینل چلایا جائے گاموجودہ چینلز صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں یہ نہیں چاہتے نئے لوگ ان کے مقابل آئیں اس موقع پر عدالت نے کہا کہ آپ کی موجودہ سٹڈی رپورٹ میں تو گنجائش موجود ہونے کا زکر بھی نہیں جس پر پیمرا وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انڈیا میں ہزار سے زیادہ چینلز موجود ہیں وہاں بھی سسٹم میں اتنی گنجائش نہیں صارف کو چوائس دی گئی ہے جو ڈی ٹی ایچ پر زیادہ چینل دیکھنا چاہے اسے کیسے روکا جا سکتا ہے عدالت نے کیس کی سماعت 13مئی تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں