این ایچاے ایمپلائز ایکشن کمیٹی کا احتجاجی مظاہرہ

این ایچ اے ایمپلائز جائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر اور سی ٹی او فی الفور این ایچ اے اکاﺅنٹس بحال کرے۔این ایچ اے کے تمام اکاﺅنٹس کی بندش سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے روز مرہ معمولات سمیت تمام تعمیراتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں،جس سے ادارے کی قومی ترقی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ہزاروں ملازمین کا معاشی و سماجی تحفظ تباہ ہوکر رہ گیاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ایف بی آر اور سی ٹی او دفتراسلام آباد سیکٹرG-9 کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر این ایچ اے ملازمین نے احتجاجی سلوگن کے کتبے آویزاں کر رکھے تھے۔مظاہرین نے مزید کہاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے) کے تمام اکاﺅنٹس منجمد کردیئے ہیں،جس کے نتیجے میں ٹھیکیداروں کو واجبات کی ادائیگی رک گئی ہے اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے قومی اہمیت کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں اور محکمے پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے اور ملک کی اکانومی متاثر ہورہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ این ایچ اے کے ملازمین کو مارچ کے مہینے کی تنخواہ کے علاوہ میڈیکل اور ٹرانسپورٹ اور گھروں کے کرایوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکی ۔ماہ رمضان میں ادائیگیوں کا نہ ہونا تشویش کا باعث ہے ۔این ایچ اے کے ملازمین کی جائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں نے ایف بی آر کی طرف سے این ایچ اے پر کئے جانے والے ظلم اور زیادتی پر شدید احتجاج کیا اور این ایچ اے کے اعلی حکام کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ملازمین نے اپنے احتجاج کے دوران این ایچ اے کے اکاﺅنٹس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ،تاکہ ملازمین کا معاشی قتل بند کیا جاسکے۔مظاہرین نے کہاکہ 48 گھنٹوں کے اندر اکاﺅنٹس بحال نہ ہوئے تو 11 اپریل سوموار 10-30 بجے سی ٹی او آفس کے سامنے دربارہ احتجاجی مظاہر ہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں