جامعات کیلئے تعلیم دشمن بل کیخلاف بھرپور احتجاج کریں گے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جانب سے جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو درپیش مسائل جس میں مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44 فیصد ہاﺅس ریکوزیشن، اردلی الاﺅنس، یوٹیلیٹی الاﺅنس ،25 فیصد ڈسپیریٹی الاﺅنس، ہاﺅس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پنشنز کی بروقت ادائیگی، بائیو میٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم سکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کےلئے پچھلے 28 دنوں اور 11 ویں روزے سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج بدھ کو بھی جامعہ بلوچستان کے آرٹس بلاک سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی گئی جو جامعہ کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوا۔ احتجاجی جلسے سے شاہ علی بگٹی، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، عنایت اللہ بڑیچ، حافظ عبدالقیوم اور محبوب شاہ نے خطاب کیا جبکہ حافظ منیر احمد نے تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز کیا۔ مقررین نے کہا کہ کل جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین نے اپنے جائز حقوق کے لئے اور صوبائی اسمبلی میں صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے تعلیم وصوبہ دشمن بل کیخلاف کامیاب احتجاجی لانگ مارچ دراصل جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر اور انکی ٹیم کیخلاف ریفرنڈم تھا۔ مقررین نے زور دیکر کہا کہ فوری طور پر تمام جائز مطالبات کے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، صوبائی حکومت صوبے کے سرکاری جامعات کیلئے پیش کردہ بل پر نظر ثانی کرکے جامعات کے پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینیٹ، اکیڈمک کونسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور دیگر میں اساتذہ، آفیسرز، ملازمین ،طلبا وطالبات اور ممبران صوبائی اسمبلی کی منتخب نمائندگی یقینی بناکر تعلیم وصوبہ دوستی کا ثبوت دیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز جمعرات کو پھر جامعہ بلوچستان میں دن گیارہ بجے آرٹس بلاک کے سامنے احتجاجی ریلی ہوگی اور وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا ھوگا جس میں شرکت کےلئے جامعہ کے اساتذہ کرام ،آفیسران اور ملازمین زیادہ سے زیادہ تعداد میں حاضری یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں