پاکستان میں تقریباً بیس ہزار بچے ہیموفیلیا کا شکار ہیں،ربابہ بلیدی
کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں لگ بھگ بیس ہزار بچے ہیموفیلیا کا شکار ہیں ہیموفیلیا ایک موروثی مرض ہے، جسے عام اصطلاح میں خون بہنے کی بیماری کہاجاتا ہے۔ اس مرض میں جسم میں موجودخون جمانے والے ذرّات میں اس حد تک کمی واقع ہوجاتی ہے کہ اگرکوئی چوٹ یا زخم لگ جائے،تو خون رْکنے یا جمنے میں کافی وقت لگتا ہے اور زیادہ خون بہہ جانیکے نتیجے میں موت کے امکانات بڑھ جاتیہیں "ہیمو فیلیا کے عالمی دن ” کے موقع پر جاری اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ دْنیا بھَر میں ہر سال ورلڈ فیڈریشن آف ہیمو فیلیا کے زیرِ اہتمام17اپریل کو ایک تھیم منتخب کرکے ”ہیمو فیلیا کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہر سطح پر اس مرض سے متعلق معلومات عام کرنا ہے اس بیماری کی شدّت میں کسی حادثے کے بغیر بھی مریض کے جسم سے خون خارج ہوسکتا ہے دیگر عوامل کے علاوہ یہ ایک موروثی مرض بھی ہے، جو والدین سے بچّوں میں منتقل ہو سکتاہے۔ دْنیا بَھر میں ہیموفیلیا کے مریضوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ ہے،لیکن تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان میں سے 75فی صدافراد میں اس کی تشخیص نہیں ہوپاتی یا وہ ناکافی علاج کروا رہے ہوتے ہیں یا پھر انہیں سِرے سیعلاج کی سہولت ہی میسّر نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ دْنیا بھَر میں ہیمو فیلیا کے مریضوں کو اڑتالیس گھنٹے کے فرق سے تین بار فیکٹر8یا9 بذریعہ انجکشن لگایا جاتا ہے۔یہ وہ فیکٹرز ہیں،جومریض کے خون میں قدرتی طور پر نہیں پائیجاتے۔ مگر چوں کہ یہ فیکٹر انجکشن بہت زیادہ منہگے ہوتیہیں اور پاکستان میں دستیاب بھی نہیں،چناں چہ ہمارے یہاں مریضوں کوفریش فروزن پلازما یا منجمد پلازما دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہیموفیلیا کی روک تھام کے لیے حکومت ترجیحی بنیادوں پر مریضوں کو مطلوبہ فیکٹر زمہیا کرنے کے ٹھوس قدامات کرے۔نیز مرض کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے تاکہ والدین اپنے بچّوں کا بہترسے بہتر علاج کروا سکیں۔


