جامعہ بلوچستان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج، ڈیڑھ ماہ بعد بھی مطالبات تسلیم نہ ہوئے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جانب سے جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو درپیش مسائل جس میں مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی الاونس،یوٹیلٹی الاونس ،25فیصد ڈسپیریٹی الاﺅنس، ہاوس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پینشنز کی بروقت ادائیگی، بائیومیٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم سکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کےلئے پچھلے ایک مہینے اور 15ویں روزے سے جاری احتجاجی تحریک جاری یے لیکن تاحال جامعہ بلوچستان پر مسلط غیر قانونی وائس چانسلر،پرو وائس، اور ٹریڑار نے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے ہیں، بیان میں کہا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور بلوچستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا نمائندہ وفد صوبائی اسمبلی کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی جن میں صوبائی وزرا نورمحمد دمڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، محمد خان لہڑی، ممبران صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے، اصغر خان ترین کی سربراہی میں جلد وزیر اعلی بلوچستان سے تفصیلی ملاقات کرے گی جس میں جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کو درپیش مالی مسائل جن میں 44فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی، یوٹیلٹی اور ڈسپیریٹی الانس کی عدم فراہمی اور صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ بل کے حوالے سے اپنے خدشات اور سفارشات پیش کرے گی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز سوموار کو بھی جامعہ بلوچستان کے آرٹس بلاک سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جو جامعہ کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا میں تبدیل ھوگا، جس میں شرکت کےلئے جامعہ کے اساتذہ کرام ،آفیسران اور ملازمین زیادہ سے زیادہ تعداد میں حاضری یقینی بنائے۔


