چاغی، سیکورٹی فورسز کیخلاف احتجاج ختم، وزیر اعلیٰ کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی میں پیر کے روز سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر مظاہرین پر فائنرگ کے واقعے کے بارے میں اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی کہ فائرنگ کیوں کی گئی۔اس واقعے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر دالبندین عرفان خلجی کے مطابق چاغی میں رات گئے سیکورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو فون ہر بتایا کہ مظاہرین کے مطالبات کے حوالے سے پیشرفت کے باعث انھوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔یہ احتجاج ضلعے میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف اور علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے دیگر مطالبات کی حمایت میں کیا جا رہا تھا۔پیر کو احتجاج میں شریک محراب بلوچ نے فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ پرامن احتجاج کے لیے فورسز کے کیمپ کے باہر پہنچے تھے جہاں ان پر فائرنگ کی گئی۔رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر دالبندین عرفان خلجی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ چاغی ٹان میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں غیر ملکی خبر رساں ادارے(بی بی سی) کے مطابق کمشنر رخشاں ڈویژن کو میسج بھیجنے کے علاوہ متعدد بار کالز بھی کی گئیں تاہم دو مرتبہ کال وصول کرنے کے باوجود انھوں نے اس سلسلے میں مقف نہیں دیا۔ڈپٹی کمشنر چاغی کے علاوہ متعلقہ سکیورٹی فورس کے حکام سے رابطے کی کوشش کے علاوہ ان کے ترجمان کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے گئے تاہم ان کی جانب سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔دوسری جانب ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ضلع چاغی میں ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور کمشنر رخشاں ڈویڑن سے صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیر اعلی نے چاغی کے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ڈرائیور کے لواحقین سے کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔واضح رہے کہ ڈرائیور حمیداللہ جمعرات کے روز افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کے علاقے ڈھک میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔ان کے بھائی محمد ابراہیم نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بھائی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ اپنی خالی زمباد گاڑی میں افغانستان سے واپس آ رہے تھے۔اس ہلاکت کے خلاف ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر احتجاج اور پتھرا کیا گیا جہاں فائرنگ سے 7 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے ڈرائیور نے ایک سکیورٹی اہلکار کو ٹکر مار کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس پر اہلکار نے اپنی دفاع میں فائرنگ کی جس کے باعث ڈرائیور کو گولی لگی جبکہ مشتعل مظاہرین کے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر یلغار کی وجہ سے وہاں موجود اہلکاروں کو اپنی دفاع میں فائرنگ کرنی پڑی۔فائرنگ کا واقعہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع اس ضلعے کے علاقے چاغی ٹان میں پیش آیا جہاں شٹرڈان ہڑتال کے علاوہ ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔احتجاج میں شریک محراب بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ متبادل ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے ضلعے کے دیگر علاقوں کی طرح چاغی کے مکینوں کے معاش اور روزگار کا انحصار بھی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی نقل و حمل پر ہے جو کہ گاڑیوں کی ذریعے ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ چونکہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے ٹوکن سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت اگر ایک گاڑی افغانستان جاتی ہے تو 10 روز بعد اس کی باری آتی ہے۔ان کے مطابق علاقے کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ٹوکن سسٹم کو ختم کیا جائے اور جو گاڑیاں افغانستان جاتی ہیں ان کو اسی روز اشیا کے ساتھ واپس آنے کی اجازت دی جائے۔محراب بلوچ کے مطابق چونکہ ان کے مطالبات کا تعلق ان سکیورٹی فورسز سے ہے جن کے ہاتھ میں سرحد کا انتظام ہے اس لیے لوگ ٹان میں واقع سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جمع ہوئے۔انھوں نے دعوی کیا کہ فائرنگ کے بعد لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے کیمپ کی جانب پتھرا کیا لیکن فائرنگ سے قبل کسی نے کیمپ پر پتھرا نہیں کیا تھا۔خمیوں کو چاغی میں رورل ہیلتھ سینٹر میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد ضلعی ہیڈکوارٹر دالبندین منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔چاغی میں سینئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد چھ افراد کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔چاغی ٹان میں فائرنگ کے واقعے سے قبل ضلع کے علاقے ڈھک میں ڈرائیور حمید اللہ کی ہلاکت اور اس کے بعد نوکنڈی میں فائرنگ سے لوگوں کے زخمی ہونے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔پیر کے روز اس واقعے کے خلاف گوادر شہر میں حق دو تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اتوار کو کوئٹہ اور کراچی میں بلوچ یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ان مظاہروں کے دوران یہ مطالبہ کیا گیا کہ ڈرائیور کی ہلاکت اور احتجاج کے دوران فائرنگ کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔


