حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پر نظر ثانی کا فیصلہ
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پرنظرثانی کا فیصلہ کرلیا۔نئی اتحادی حکومت نے انتخابی اصلاحات پرکام شروع کردیا ہے اور اتحادی جماعتوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں، وزارتِ قانون نے پی ٹی آئی دور میں کی گئی قانون سازی کا بھی جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پر نظرِثانی کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال نہ کرنے پر بھی غور کیا گیا۔وزیرقانون نے کہا کہ ہم غریب ملک ہیں،دنیابھر میں پولنگ اسٹیشن قائم کرکے ووٹنگ نہیں کراسکتے، سفارت خانوں میں بھی اتنےبڑے پیمانے پر اوور سیز ووٹنگ ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز ووٹنگ کے بجائے پارلیمنٹ میں تارکینِ وطن کی نشستیں مختص کرنے پر غورکر رہے ہیں، ووٹنگ مشین کے استعمال سے پہلے پائلٹ پراجیکٹ ضروری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ کرسی اور عہدہ پھولوں کی سیج نہیں ہے، ہمارے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ یہ کرسی اور عہدہ پھولوں کی سیج نہیں ہے، اس وقت ہمارے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں جن کا ہمیں مل کر سامنا کرنا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں ہر شعبے میں تباہی ہوئی ہے اور عوام کو ترقی کے جعلی خواب دکھائے جاتے رہے ہیں لیکن اب آپ سب نے اتحاد اور یک جہتی سے ملک کو مسائل سے نکالنا اور عوام کو ریلیف دینا ہے۔ وفاقی کابینہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، سید نوید قمر، اسعد محمود، سردار ایاز صادق بھی کمیٹی میں شامل ہیں، کمیٹی ای سی ایل قانون کا جائزہ لے کر کابینہ کے سامنے پیش کرےگی ،محمد طاہر کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق دور میں سیاسی انتقام اور بدبودار احتساب ہوا، جو الزامات انہوں نے لگائے وہ تمام کام عمران خان نے خود کئے، اسٹاپ لسٹ اور واچ لسٹ عمران خان کے حکم پر چلتی رہی ہے، ای سی ایل میں پچھلی پوری کابینہ کا نام ہونا چاہیے ،ای سی ایل کا قانون کہاں کہاں استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس پر کمیٹی بریفنگ دےگی، کمیٹی تین دن کے اندر کابینہ کو رپورٹ کرےگی، وزیراعظم نے نیشنل سیکورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے، کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ سے اس کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا،نیشنل سیکورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جلد ہوگا، پاکستان کے عوام کے سامنے ساری حقیقت آ جائےگی،ملک میں عدم برداشت کے کلچر کے خاتمے کے لئے میڈیا کو بھی آگے آنا ہوگا، 27 پاور پلانٹس فیول نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں، صورتحال بہتر کر نے کی کوشش کررہے ہیں ۔بدھ کو کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس میں مریم اور نگزیب نے کہاکہ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، وزیراعظم شہباز شریف منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کے عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔


