صوبائی حکومت سرکاری جامعات کیلئے دس ارب روپے مختص کرے، فپواسا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) فیڈریشن آف آ پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے صوبائی چیپٹر کا اجلاس جامعہ بلوچستان میں فپواسا کے مرکزی نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ کی صدارت میں منعقد ھوا، اجلاس میں بلوچستان چیپٹر کے صدر فرید خان اچکزئی، سیکرٹری عبدالباقی جتک، خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے نائب صدر طیب محمد حسنی، سیکرٹری نجیب اللہ، زرعی یونیورسٹی کوئٹہ کے سیکرٹری احمد جان، کاکڑ ایمپلائز ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نجیب اللہ ترین، سید شاہ بابر، اسحاق پرکانی اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی اسمبلی سے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے جلد بازی اور بنیادی سٹیک ہولڈرز اور ممبران اسمبلی سے مشاورت کے بغیر اور قواعد وضوابط کے برخلاف پاس شدہ بل کو مسترد کرتے ہوئے اس بل کو صوبہ و تعلیم دشمن قرار دیا، اجلاس میں واضح کیا کہ پچھلے تین سال سے مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر کی جامعات کی بجٹ میں 50 فیصد سے زیادہ کٹوتی کرکے جامعات کو سخت مالی بحران میں مبتلا کیا اور موجودہ مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس سال پیش ہونے والے سالانہ بجٹ میں جامعات کے فنڈز میں سو فیصد تک کا اضافہ کرکے تعلیم دوستی کا ثبوت دیں اجلاس میں واضح کیا کہ صوبے میں اب نو جامعات اور ایک درجن کے قریب سب کیمپسزز فنکشنل ہیں اور دو نئی جامعات زیر تعمیر ہیں، لہذا صوبائی حکومت کی جانب سے گرانٹس ان ایڈز کی مد میں صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے کم ازکم دس ارب روپے مختص کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں صوبے کی تمام سرکاری جامعات اور کالجز کے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین پر مشتمل گرینڈ الائنس بنانے کا فیصلہ کیا جو صوبے کی تمام جامعات کی ایکٹس میں تعلیم و صوبہ دوست ترامیم کے لئے تمام جامعات اور کالجز اور تمام شہروں میں جلد تحریک شروع کرے گی۔ اجلاس میں وزیراعلی بلوچستان اور وزرا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے جامعات کی ایکٹس میں بنیادی سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تعلیم وصوبہ دوست ترامیم کرے اور پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینیٹ، اکیڈمک کونسل اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی میں اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی یقینی بناکر جامعات میں درس و تدریس کو آزادانہ اور بلاخوف وخطر جاری رکھنے اور جمہوری روایات کو فروغ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں