حکومتی مشکلات میں کمی نہیں آرہی
لندن سے واپسی کے بعد کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا کر اہم فیصلے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،اسی روز یااگلے روز ملکی سیاسی اور معاشی مسائل پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا تقاضہ کیا جا رہا ہے، مخلوط حکومت تاحال اس بارے کوئی فارمولہ طے نہیں کرسکی،توقع ہے کہ مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا تاکہ عوام مشتعل ہو کر کوئی سخت ردعمل نہ دیں۔جبکہ دوسری جانب عوام پی ٹی آئی کی 10 اپریل والی برطرفی کے بعد سے سڑکوں پر آچکے ہیں۔ حالات کی سنگینی سے باخبر حلقے حکومتی لائحہ عمل کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دو دن میں قوم سے خطاب بھی کریں گے۔ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت کون سے بڑے فیصلے کرنے جارہی ہے؟ابہام اور گومگو کی کیفیت طاری ہے۔حکومتی اتحادی بھی بڑے سوالات پر یکجا دکھائی نہیں دیتے،پی پی پی کی قیادت چند روز قبل انتخابی اصلاحات کے بعد انتخابات کی تجویز دے چکی ہے۔ واضح رہے انتخابی اصلاحات میں وقت لگے گا،اور جتنا وقت گزرے گا مہنگائی میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔عمومی طور پر یہی سمجھا جارہاہے کہ کہ مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے عوامی ناراضگی بھی بڑھے گی۔زیادہ نقصان مسلم لیگ نون کو پہنچے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور وزارت خزانہ مسلم لیگ نون کے پاس ہیں اور وزیر اعظم بھی اسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں پی ڈی ایم (اور متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے)عوام کو مسلسل ساڑھے تین سال یقین دلایا گیا کہ پی ٹی آئی کے پاس سیاسی شعور کی کمی ہے،بیوروکریسی سے کام لینا نہیں جانتی، اسے پرائس کمیٹیوں سے کام لینے کا ہنر نہیں آتا، اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں،سب کو گالیاں دے کر اس نے خود کو تنہا کر لیا ہے، عوام پی ٹی آئی کو جھولی پھیلا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔اور یہ سب باتیں سچی تھیں، محض لفاظی نہیں تھی۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد میڈیا کے سامنے روزانہ کی بنیادوں پر اقرار کرتے تھے:”حکومت مہنگائی ختم نہیں کرسکی، یہ ہماری بڑی ناکامی ہے“۔ان کی باڈی لینگویج اس بیانیئے کی تصدیق کرتی تھی۔ان کے چہرے پر پریشانی اور لہجہ دکھی ہوتا تھا۔شیخ رشیدمیڈیا کے سامنے یہ کہنا نہیں بھولتے تھے کہ وہ راولپنڈی میں نالہ لئی کا منصوبہ مکمل ہوتے ہی سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گے۔بے قابومہنگائی نے وزراء کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ عوام، بالخصوص گھریلو خواتین مہنگائی کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت کو سمجھتی تھیں، نجی محفلوں میں مہنگائی پر گفتگو باہمی دلچسپی کا سب سے بڑا موضوع بنی ہوئی تھی۔مگر 8مارچ سے9اپریل کے دوران تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لئے جو حربے آزمائے گئے اور اس کے نتیجے میں تشکیل دی گئی حکومت عوام کے سنجیدہ حلقوں اور مبصرین کے لئے حیران کن تھی۔بار باروفادریاں تبدیل کرنے والے جانے پہچانے مخصوص ایم این ایز اور ایم پی ایز کوایک بار پھر عوام نے پرانی روایت دہراتے دیکھا۔لوٹوں کا ناپسندیدہ کلچر اس بار عوام نے مسترد کر دیا۔پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ ”لوٹے“عید کی نماز ادا کرنے مسجدوں اور عیدگاہوں میں نہیں گئے۔لندن میں مقیم شریف فیملی کے فراد نے بھی اپنے گھر پر ”نمازِ عید“ ادا کی۔عمرے کی ادائیگی کے دوران مسجد نبویؐ کے باہروزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کے خلاف جو نعرے بازی ہوئی اس نے موجودہ حکومت کے لئے ان دیکھی صورت حال پیدا کردی۔حکومت نے اس نعرے بازی کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی،پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤ ں اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمداور ان کے بھتیجے ایم این اے شیخ راشد شفیق کے خلاف توہین رسالت کی مختلف دفعات کے تحت متعدد تھانوں میں ایف آئی آر بھی درج کرادی۔متأثرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ا نہیں مناسب ریلیف ملا۔ عدالت نے درخواستوں کی بروقت سماعت کی، اورحکومت کو نہ صرف گرفتایوں سے روک دیا بلکہ نئے مقدمات کے اندراج سے بھی منع کر دیا۔چنانچہ حکومت حسب منشا فائدہ نہ اٹھا سکی۔گذشتہ سے پیوستہ روزڈپٹی کمشنرسیالکوٹ نے اقلیتی ملکیت گراؤنڈ پر مالکان کی اجازت کے بغیر پی ٹی آئی کوجلسہ کرنے سے روک دیا،عین جلسے والے دن پی ٹی آئی کو اسٹیج سمیت دیگر تیاریاں سمیٹنے اور دوسرے مقام پر جلسہ کرنے کا حکم دیا۔ کچھ لوگ گرفتار بھی کئے گئے۔حکومت سمجھ رہی تھی کہ اتنے کم وقت میں پی ٹی آئی دوسرے مقام پر جلسے کے انتظامات نہیں کر پائے گی، اور یہ جلسہ ناکام ہو جائے گا، مگر ایسا نہیں ہوا، جلسہ منعقد ہوا، حاضری بھی توقع کے مطابق رہی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے بعض اہم انکشافات بھی کئے۔سب سے بڑا انکشاف یہ تھا کہ انہیں بہت دنوں سے بتایا جارہا تھا کہ انہیں (عمران خان کو) قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، لیکن دو دن قبل اس کی تصدیق ہو گئی ہے، انہوں حاضرین جلسہ کو بتایا کہ اس تصدیق کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو میں تمام تفصیلات ریکارڈ کرا کے کسی محفوظ مقام پر رکھوا دیا ہے، اگر قتل کے منصوبے پر عمل درآمدہوجاتا ہے تو یہ ویڈیو وائرل کر دی جائے گی۔اس کے جواب میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ اس منصوبے کے شواہد حکومت کو فراہم کر دیں تو حکومت انکوائری کرانے کو تیار ہے۔مگر اب معاملات انکوائری سے کہیں آگے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ہر جلسے میں ایک ہی مطالبہ دہرا رہے ہیں:۔۔”فوری انتخابات کا اعلان کیا جائے“۔۔ وہ کہتے ہیں دیگر معاملات پر بات چیت اس اعلان کے بعد ہوگی۔چنانچہ گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔آئندہ کا ملکی منظر کیسا ہوگا؟ اس کا انحصار حکومت
کے جواب پر ہے۔فوری انتخاب کا اعلان یا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ؟پاکستان میں حکومت عوامی ووٹوں سے بنے گی یا چند اراکین اسمبلی کو کسی ”صوبائی“ہاؤس یا ہوٹل میں مہمان بنا کرحکومتیں گرانے کا فارمولہ آزمایا جائے گا؟ ایک راستہ پرامن ہے، جمہوری ہے،آئینی اور قانونی ہے جبکہ دوسرا راستہ مشتعل عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان براہ راست تصادم کی طرف جاتا ہے۔دانشمندی کاتقاضہ ہے کہ ملک کو کسی تصادم کی طرف نہ دھکیلا جائے،قتل کا فارمولہ تین بار (1951،1979اور2007میں) آزمایا جا چکا ہے، 1988میں جنرل ضیاء الحق کا حادثاتی قتل بھی شمار کیا جائے توپاکستان کے چار سربراہان قتل ہو چکے ہیں۔سب کے پیچھے امریکی ہاتھ نظر آتا ہے۔عوام سڑکوں پر ہیں،۔۔ ”امریکی غلامی نامنظور“۔۔ کے نعرے لگا رہے ہیں،واضح رہے واشنگٹن سے بھیجا گیادھمکی آمیزامریکی مراسلہ منظر عام پر آ جانے کے بعدپانچویں رہنما کا قتل عوام قبول نہیں کریں گے۔امریکہ اور اس کے ہمنواعوامی غیض و غضب کو بھڑکانے سے باز رہیں۔


