ڈیرہ مرادجمالی، نہری پانی کی چوری اور غیر منصفانہ تقسیم کیخلاف درخواست کی سماعت
ڈیرہ مراد جمالی (انتخاب نیوز) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد نعیم افغان جسٹس روزی خان بڑیچ کی عدالت نے بلوچستان کے واحد نہری نظام پٹ فیڈر کینال کھیرتھر کینال ودیگر ذیلی شاخوں پر پانی کی غیر منصفانہ تقسیم غیر قانونی واٹر چینل اور ڈی سیلٹنگ کے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایکس ای این پٹ فیڈر کینال محمد ابراہیم مینگل پیش ہوئے ہفتہ وار جاری آپریشن اور ڈی ڈیلثنگ کے کام کے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ غیر قانونی پائپوں کو ہٹانے کے دوران زمینداروں سیاسی افراد کی جانب سے مزاحمت اور دشواریوں کا سامنا ہے جس سے ایری گیشن عملہ آفیسران مشنیری کے عملہ کی جان اور مالی خطرہ ہے لہذا منصفانہ آپریشن کیلئے ایف سی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایری گیشن کے آفیسران نے ہوم سیکرٹری کو خط لکھا ہے عدالت کو بتایا گیا کہ کمشنر نصیر آباد ڈویژن سے رابط کیا گیا ہے جس پر عدالت نے کہاکہ سیکرٹری ایری گیشن ایف سی کی طلبی کیلئے ہوم سیکرٹری کو خط لکھیں۔ اس موقع پر عدالت نے بھل صفائی کے کام کی تفصیل پوچھی عدالت کو بتایا گیاکہ پٹ فیڈر کینال کی 50کلومیڑ ڈی سیلٹنگ کا کام مکمل کرکے پٹ فیڈر کینال میں پانی چھوڑا گیا ہے اور عدالت عالیہ میں ایری گیشن کے لیگل آفیسر نے کہاکہ اگے سماعت میں CMITکی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے جس پر عدالت نے لا آفیسر سے سی ایم آئی ٹی کے نام پوچھے بتایا گیا کہ محمد اکبر بلوچ سید ظفر شاہ بخاری کامران خان شامل ہیں جن کو اگلی سماعت میں رپورٹ کے ہمراہ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ پٹ فیڈر کینال کے ٹیل کسانوں زمینداروں کو پانی کی فراہمی ایری گیشن کے آفیسروں کی ذمہ داری ہے عدالت عالیہ تمام حقائق سے واقف ہے ایک صوبائی وزیر واٹر سپلائی کے نام منظوری کراکر زمین آباد کر رہے ہیں ایری گیشن کے افسران بلاامتیاز پانی چوروں کے خلاف آپریشن جاری رکھیں عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات 26مئی کو مقرر کی ہے عدالت میں محکمہ ایری گیشن کے متعلق دائر ائینی درخواستیں میں درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ راحب خان بلیدی ایاز ظہور ایڈوکیٹ ودیگر پیش ہوئے۔


