اہانت پیغمبرؐ معاملہ، بی جے پی کارکنان پارٹی اعلیٰ کمان کے فیصلے سے ناراض

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پیغمبرؐ سے متعلق متنازعہ بیان پر مسلم ممالک کے ردعمل کے بعد بھارت کی حکمراں بی جے پی نے اپنے دو رہنماؤں کو معطل تو کردیا لیکن ہندو قوم پرست جماعت کے کارکنان اس اقدام سے سخت ناراض ہیں۔ پیغمبرؐ اسلام کیخلاف نازیبا بیانات پر مسلم ملکوں کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے دو رہنماؤں کو معطل کردیا لیکن ہندو قوم پرست جماعت کے کارکنان اس اقدام سے سخت ناراض ہیں اور وزیر اعظم مودی اور پارٹی قیادت کیخلاف وہ سوشل میڈیا پر اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔ دونوں معطل رہنماؤں نے پیر کو اپنی طرف سے الگ الگ جاری بیانات میں غیر مشروط معافی بھی مانگ لی ہے۔ لیکن ایک طرف جہاں مسلمانوں کی جانب سے ان دونوں رہنماؤں، بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نوپور شرما اور دہلی یونٹ کے ترجمان نوین جندل کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ وہیں بی جے پی کے عام کارکن اپنی پارٹی کے اقدام سے دل گرفتہ اور سخت ناراض ہیں۔ دونوں رہنماؤں کو معطل کرنے کے بی جے پی کے فیصلے کے بعد سے ہی پارٹی کے عام کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ناراضگی کا اظہار شروع کردیا ہے۔ بیشتر سخت گیر کارکن اسے ہندوؤں اور بھارت کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام قرار دے رہے ہیں اور وزیراعظم مودی کی قائدانہ صلاحیت پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ بی جے پی کے متعدد کارکنوں کا کہنا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں پارٹی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں