عبدالمالک ترین کی تقرری سے پنجگور میں پیدا تعلیمی بحران ختم کیا جائے، آل پارٹیز پنجگور
پنجگور (نمائندہ خصوصی) یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے طلباء شیر جان بلوچ اقبال ظہیر اور دیگر نے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین میر نذیر احمد، وائس چیئرمین اشرف ساگر، بی این پی عوامی کے مرکزی اسپورٹس سیکرٹری رحمدل بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی محمد اکبر، جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالعزیز، بی این پی مینگل کے ضلعی آرگنائزر میر نظام ملازئی، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین، ضلعی صدر صغیر احمد، ظہور احمد زیبی، سول سوسائٹی کے کنوینر حاجی افتخار، مصطفی کمال اور دیگر کے ہمراہ طلباء کے احتجاجی کیمپ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتجاج کسی قوم قبیلہ کیخلاف نہیں ہے، عبدالمالک ترین کی تقرری سے پنجگور میں ایک تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے، یونیورسٹی آف مکران کے طلباء نے عبدالمالک ترین کی تقرری کے بعد یونیورسٹی کو تالا لگاکر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، چھٹے روز بھی احتجاجی کیمپ قائم ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عبدالمالک ترین کی تقرری کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ پنجگور کے شہری پیر کے روز طلباء کی ریلی جو وی سی کی تقرری کیخلاف ہے میں بھر پور شرکت کریں تاکہ ارباب اختیار اس اہم مسئلے پر کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہیں۔ طلباء نے کہا کہ اب ہمارے مڈٹرم ایگزام ہورہے ہیں ایک شخص کی وجہ سے سینکڑوں بچوں کے مستقبل کو کیسے داؤ پر لگایا جاسکتا ہے، امید ہے کہ بہت جلد طلباء کو اس گھٹن زدہ ماحوال سے نکال کر انکا جائز مطالبہ حل کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے طلباء نے مزید کہا کہ یونیورسٹی آف تربت پنجگور سب کیمپس کا قیام 2020ء میں ہوا تھا۔ دو سال کی قلیل مدت میں اس کیمپس کو ایک مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، جو پنجگور اور مکران کے لئے ایک نیک شگون سے کم نہیں۔ 2 اپریل 2022ء کو بلوچستان اسمبلی نے یونیورسٹی آف مکران کے ایکٹ کی منظوری دی اور 16 اپریل کو یہ ایکٹ اسمبلی سے پاس ہوا۔ ایکٹ کے منظوری کے بعد چونکہ اس نئے یونیورسٹی کے لئے ایک وائس چانسلر کی تعیناتی ہونی تھی، تو 21 جون 2022ء کو چانسلر پبلک سیکٹر یونیورسٹیز بلوچستان، گورنر بلوچستان کی سیکرٹریٹ سے ایک تقرری آرڈر کے ذریعے ڈاکٹرعبدالمالک ترین کو یونیورسٹی آف مکران کا پہلا وائس چانسلر تعینات کیا گیا۔ چونکہ مذکورہ شخص ایک انتہائی متنازعہ شخصیت کے مالک تھے، شدید عوامی ردِ عمل کے بعد ان کی تعیناتی 24 گھنٹوں کے اندر منسوخ کی گئی۔ اس منسوخی کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تو معزز ہائی کورٹ بلوچستان نے ان کو اسٹے آرڈر دیا۔ اس متنازعہ تعیناتی کو ہم نے شروع دن سے یونیورسٹی آف مکران کیخلاف ایک سازش سمجھا ہے اور اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اپنے اس مادرِ علمی کیخلاف ہونے والے ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ نہ صرف یونیورسٹی آف مکران کے طلباء و طالبات نے اس کی مخالفت کی ہے بلکہ پنجگور کے تمام طبقہ فکر بھی اس تقرری کیخلاف ہیں۔ یونیورسٹی آف مکران کے طلباء و طالبات نے 26 جون 2022ء کو اس تعیناتی کیخلاف ایک پریس کانفرنس کے ذریعے صحافی حضرات کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ دوسرے دن 27 جون 2022ء کو ہم نے اس تعیناتی کیخلاف نوری نصیر خان چوک پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جس میں ڈپٹی کمشنر پنجگور نے آکر ہمیں یقین دلایا کہ ہمارے جائز مطالبات سے وہ حکامِ بالا کو آگاہ کریں گے۔ اسی دن ڈپٹی کمشنر کے آفس میں طلباء سمیت، پنجگور کے سیاسی جماعتوں اورپنجگور سول سوسائٹی نے ڈپٹی کمشنر کو زبانی و تحریری صورت میں اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ 28 جون 2022ء کو یونیورسٹی آف مکران کے طلباء نے یونیورسٹی کی تالہ بندی اور کلاسز کا بائیکاٹ کرکے یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔اس احتجاجی دھرنے میں پنجگور کے سارے سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے آکر طلباء سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اپنے بھرپور تعاون و حمایت کا یقین دلایا۔ مالک ترین 2021ء میں جب یونیورسٹی آف لورلائی کے پرو وائس چانسلر تھے تو ان کو اکتوبر 2021ء میں خراب اور غیرتسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر نکالا گیا۔ پیر 4 جولائی 2022ء کو صبح 10 بجے ہم ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرہ جاوید چوک سے شروع ہو کر ڈپٹی کمشنر آفس جائیگی اور وہاں پر ڈی سی کو ایک یاداشت پیش کی جائیگی، بعد میں یہ مظاہرہ نوری نصیر خان چوک پرآ کر ختم ہوگی۔ تمام طبقہ فکر کے لوگ احتجاجی مظاہرے کی حمایت اور بھرپور انداز میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔


