ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہلو میں ادویات کا بحران،گیسٹرو وباء نے دعوں کے پول کھول دئیے

کوہلو: بلوچستان کی صوبائی حکومت کے صوبے میں صحت کے بلند بانگ دعوں کے برعکس کوہلو کے واحد ہسپتال میں صحت کے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ضلع کے واحد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بنیادی سہولیات کے فقدان نے مریضوں کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے ضلع کے واحد ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جو کوہلو کے علاوہ قریبی علاقوں کے مریضوں کیلئے بھی ایک نعمت سے کم نہیں تھا تاہم گزشتہ کئی ماہ سے ضلع کے واحد ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بنیادی سہولیات کے فقدان سے مریض عاجز آگئے ہیں جبکہ ضلع میں حالیہ معمولی گیسٹرو وباء کے پھیلنے سے واحد ہسپتال میں ادویات کے بحران نے صوبائی حکومت کے دعوں کاپول کھول دیا ہے ادویات کی کمی سے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کوہلو کے واحد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ادویات،ڈاکٹرز اور میڈیکل لیڈی ڈاکٹر ز،آکسیجن سہولیات،شعبہ حادثات میں جدید سہولیات،الٹراساؤنڈ،جنریٹر کی محدود سہولیات نے مریضوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے جس سے صوبے میں صحت کے حوالے سے بلند بانگ دعوں پر سولات اٹھ گئے ہیں کئی مریضوں نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ رات گئے کئی مرتبہ ہسپتال میں گئے ہیں مگر بدقسمتی سے ضلع کے واحد ہسپتال میں رات کے اوقات میں اکثرو بیشتر ڈاکٹرز ہی موجود نہیں ہوتے ہیں جس سے انہیں اپنے مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں میں ریفر کرنا پڑتا ہے جبکہ اکثر و بیشتر ضلع میں رات کے وقت میڈیکل اسٹورز بند ہوتے ہیں جس سے ادویات کے حصول کے لئے مریضوں کے ورثا سرگرداں رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ضلع میں دیگر بنیادی سہولیات تو شہریوں کودستیاب ہی نہیں ہیں مگر گزشتہ کئی سالوں سے کوہلو کا واحد ڈی ایچ کیو نہ صرف یہاں بلکہ ضرورت پڑنے پر قریبی اضلاع کے مریضوں کیلئے بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھا مگر بدقسمتی سے اب یہاں بھی حالات جوں کے توں ہیں اور صوبائی حکومت نوٹس لینے کے بجائے لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس سے مریضوں کیلئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں دوسری جانب سے جب اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو کے ایم ایس سے رابطہ کیا گیا تو ڈاکٹر اصغر مری نے بتایا کہ ہسپتال میں گزشتہ ماہ سے ادویات کا کمی ہے جس سے مریضوں کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں جبکہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کا محدود عملہ موجود ہے جس کی وجہ سے بھی بعض اوقات میں مسائل جنم لے رہے ہیں ہسپتال میں بجلی کے 24گھنٹے فراہمی کیلئے متعداد بار گزارش کی ہے مگر تاحال بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو کی کئی سالوں سے بہترین سروس کی وجہ سے نہ صرف کوہلو بلکہ بارکھان،دکی،رکھنی اور ڈیرہ بگٹی کے مریض بھی بڑی تعداد میں ہر آئے روز آرہے ہیں جس سے ماہانہ ادویات اور بنیادی مسائل جنم لے رہے ہیں کیونکہ ہسپتال میں جو بھی مریض جہاں سے آتا ہے ہم انہیں مکمل طیبی سہولیات فراہم کرنے کے پابند ہیں جس سے ادویات کا فقدان پیدا ہوا ہے ادویات کی فوری فراہمی کیلئے کئی ماہ سے درخواست کی ہے مگر تاحال ادویات فراہم نہیں ہوئے ہیں امید ہے ایک سے دو ہفتے کے اندر مل جائیں گے جبکہ محدود عملے کے باجود ہسپتال کو فعال کرنے میں کوشاں ہیں رواں ماہ ڈپٹی کمشنر کوہلو نے صوبائی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر ادویات اور ڈاکٹر ز کی کمی کو دور کرنے کی یقین دہانی کی ہے حالیہ گیسٹرو وباء پر قابو پاچکے ہیں جو مریض آئے تھے انہیں علاج معالجہ فراہم کرکے ڈس چارج کردیا گیا ہے جبکہ اب کئی ایک مریض رپورٹ ہورہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں