کوئٹہ، اربوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی بسیں سڑنے لگیں
کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی بسیں سڑنے لگیں جبکہ حکومت بلوچستان نے معاملے کوسابقہ حکومت پرڈالتے ہوئے موقف اختیارکیاہے کہ گزشتہ دور حکومت میں کسی منصوبہ بندی اور بسوں کے چلنے کے روٹس کی نشاندہی کے بغیر بسوں کی خریداری کی گئی۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں عوامی سہولت کیلئے خریدی گئی گرین بسیں غفلت کے باعث سڑنے لگیں حکومت بلوچستان کی جانب سے 10بسیں اربوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی تھی کہاجاتاہے کہ مقامی بس یونینز کی دباؤ کے باعث منصوبے پر عمل ممکن نہ ہوسکا عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیاہے کہ حکومت بلوچستان کو چائیے کہ ان بسوں کو سڑکوں پر لا ئیں تاکہ کوئٹہ کے لوگ ان سے مستفید ہو سکیں کیونکہ شہر میں نقل و حرکت خواتین، بچوں اور طلبا کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے،سرکاری خزانے سے خریدے گئے بسز زنگ آلود ہونے کی بجائے مفاد عامہ کے لیے استعمال ہونے چائیں دوسری جانب حکومت بلوچستان کی جانب سے خریدی گئی بسوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کی وضاحت بھی جاری کردی گئی ہے جس میں معاملہ سابقہ حکومت پر ڈالتے ہوئے کہاگیاہے کہ سوشل میڈیا پر بسوں کی خریداری کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے گزشتہ دور حکومت میں کسی منصوبہ بندی اور بسوں کے چلنے کے روٹس کی نشاندہی کے بغیر بسوں کی خریداری کی گئی خریدی گئی بسیں دو ہفتہ قبل 29 جون کو کوئٹہ پہنچیں سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بسوں کے چلنے کے حوالے سے قابل عمل منصوبہ بندی کی سمری ارسال کی گئی ہے سمری میں شامل تجاویز پر جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔


