عدم دلچسپی سے نوشکی کے مسائل میں اضافہ، دفتری امور میں لوگوں کو مشکلات
نوشکی (انتخاب نیوز) صوبائی حکومت اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی نوشکی کے مسائل میں اضافہ، لوگ مصائب اور مشکلات کا شکار، ضلع نوشکی 5797 کلو میٹر پر محیط بلوچستان کا واحد ضلع ہے جو ایک تحصیل اور ایک پولیس تھانہ پر مشتمل ہے، نوشکی کی آبادی دو لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقوں کے ہزاروں باشندوں کو دفتری امور کے سلسلے میں مشکلات مصائب اور وقت کے ضیاع سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ نوشکی کو 14 جولائی 1906ء سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کی حیثیت حاصل ہے لیکن 116 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی نوشکی ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر کے لیے آفس کا قیام عمل میں نہ لانا سوالیہ نشان ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا آفس لوکل گورنمنٹ کے عمارت میں واقع ہے، اس وقت تک 118ضلعی انتظامیہ آفیسران اپنے فرائض منصبی اپنے دفتر کے بغیر سرانجام دے چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کا آفس بھی لوکل گورنمنٹ کے احاطے میں ہے جس کی وجہ سے لوکل گورنمنٹ کے ملازمین کو کمروں کی کمی کے باعث مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایف سی گیٹ سے متصل ڈپٹی کمشنر آفس کے احاطے میں کھنڈر نما عمارت کو منہدم کرکے ضلعی سیکرٹریٹ کے لیے عمارت کی تعمیر عمل میں لانے کے لیے منصوبہ بندی کرکے سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے جس سے عوام کو کافی سہولیات، وقت کی بچت اور محکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ مذکورہ جگہ سیکرٹریٹ کے لیے انتہائی موزوں اور بہتر جگہ ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے چھ ماہ قبل دورہ نوشکی کے موقع پر نوشکی ڈسٹرکٹ میں دو نئی تحصیلوں کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن ہنوز اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ احمد وال اور کیشنگی کو تحصیل کا درجہ نوشکی پولیس ایریا میں مزید ایک پولیس تھانہ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ نوشکی کے عوام امید رکھتے ہیں کہ ان کی مشکلات اور دشواریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔


