زیارت میں مارے گئے افراد کو معصوم شہری ظاہر کرنا بلوچ روایات کیخلاف ہے، آئی ایس پی آر
راولپنڈی (پ ر) فوج کے تعلقات عامہ شعبہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق 12 جولائی کو لیفٹیننٹ کرنل لائق بیگ مرزا اور ان کے کزن عمر جاوید کو کچھ افراد نے زیارت سے کوئٹہ جاتے ہوئے بیوی بچوں کے سامنے اغوا کیا تھا، اگلے دن لیفٹیننٹ کرنل لئیق کو بیدردی سے قتل کیا گیا اور 17 جولائی کو ان کے کزن عمر جاوید کی لاش پہاڑوں سے برآمد ہوئی، اغوا کاروں کے خلاف کیے گئے آپریشن میں 9 افراد مارے گئے۔جبکہ حوالدار خان محمد نے آپریشن میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ آپریشن کے بعد ایک مذموم اور گمراہ کن پروپیگنڈا کے تحت مارے گئے افراد کو معصوم شہری ظاہر کرنے اور بلوچ روایات کیخلاف ہے، اس گھناؤنے واقعے سے توجہ ہٹانے کیلئے ان کو پہلے سے لاپتہ افراد کی فرضی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، مارے گئے افراد میں ایک سلیم بلوچ نامی شخص بھی شامل تھا جِس کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا کہ وہ پہلے سے لاپتہ اور سیکورٹی فورسز کی حراست میں تھا۔ سلیم بلوچ ایک عرصے سے مسلح کارروائیوں میں بھر پور حصہ لے رہا تھا جسکا ثبوت ان کی اپنی ہی بنائی ہوئی پچھلے سال اکتوبر کی وڈیو ہے جس میں اسے سیکورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہوئے باقی افراد کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ اس وڈیو میں سلیم بلوچ سیکورٹی فورسز سے چھینی گئی سرکاری جی تھری رائفل کیساتھ فائر کرتا نظر آرہا ہے۔ ایک اور تصویر میں جی تھری رائفل کے ساتھ پوز بناتے ہوئے بھی نظر آرہا ہے، اسی آپریشن میں مارے گئے ایک اور شخص شہزاد بلوچ کی قبر پر بی ایل اے نے اپنا جھنڈا سجا رکھا ہے۔ اس طرح کے افراد کو جبری گمشدہ افراد کے کھاتے میں ڈال کر انکو مظلوم اور ریاست کو ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس منفی اور منظم پروپیگنڈا کی وجہ سے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا جارہا ھے بلکہ ریاستی اداروں کو مسلسل باعث تنقید بنایا جاتا ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔


