بلوچ لاپتہ افراد کا قتل ریاستی اداروں کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں، محسن داوڑ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے چیئر مین رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کوئٹہ لاپتہ افراد کے لواحقین اور زیارت واقعہ میں لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے کے ذریعے قتل کرنے کے خاندانوں کے دھرنے میں شرکت کر کے ان کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ استعماری ریاست کے استعماری اداروں نے بلوچستان،پشتونخوا وطن اور سندھ سمیت ملک بھر میں حقوق واختیارات کے حصول کی جدوجہد کا راستہ روکنے اور خوف ودہشت پھیلانے کیلئے سیاسی کارکنوں اور دیگر افراد کو لاپتہ کر کے جعلی مقابلوں میں ان کو خون ناحق بہانے کا سفاکانہ عمل شروع کیا ہے اور ملک میں کہیں بھی تخریب کاری کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے بد لے میں جعلی مقابلے کے ذریعے لاپتہ افراد کو قتل کیا جاتا ہے اور اسی طرح وزیرستان اور دیگر علاقوں میں سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندی ریاست اور اس کے اداروں کی پیدا کردہ ہے اور آج جو بلوچستان اور پشتونخوا میں تخریب کاری کے واقعات ہورہے ہیں اور لاپتہ افراد کی لاشیں گرائی جارہی ہیں یہ عمل ریاستی اداروں کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء کی مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں زیارت واقعہ سے متعلق جوڈیشل کمیشن بنانے اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کو لازمی قرار دیا۔ علاوہ ازیں نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بیان میں جمہوری مزاحمتی سیاست اور جدوجہد کے توانا آواز مرحوم طاہر ہزارہ کو ان کی جدوجہد وقربانیوں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نڈر اور بہادر سیاسی کارکن طاہر ہزارہ کے ریاستی جبر، استحصال اور نا برابری کیخلاف موثر توانا آواز تھے۔ نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ مرحوم رہنماء کے لواحقین اور پسماندگی سے دلی ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے ان کے مغفرت کیلئے دعا گو ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں