بجلی کے بلوں میں فکس ٹیکس کے نفاذ کیخلاف تاجر برادری سراپا احتجاج، بلز نذر آتش
کراچی (انتخاب نیوز) ملیر، قائد آباد ، مسان چوک سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے ریٹیلر سیلز ٹیکس وصولی کے خلاف تاجروں، سول سوسائٹی نے مین قائد آباد چوک نیشنل ہائی وے پر احتجاجی مظاہرے کئے اور نیشنل ہائی وے پر بند کردیا۔ واقعات کے مطابق ملیر کالا بورڈ، کھوکراپار محمدی مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ، بی مارکیٹ، قائدآباد،کیماڑی مسان چوک سمیت مختلف مارکیٹوں کے تاجروں نے بجلی کے بلوں میں 6 ہزار روپے فکس ٹیکس کے نفاذ پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا، تاجروں کا کہنا تھا کہ بلوں میں ناجائز ٹیکس لگا کر تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، تاجر برادری کا کہنا تھا کہ نااہل اور ظالم حکمرانوں کی نااہلی کی سزا عوام کیوں بھگتیں؟ حکومت نے ہر دکان/ کمرشل میٹر نان فائلرز پر ماہانہ 6000 روپے فکس ٹیکس عائد کر دیا ہے جبکہ انکم ٹیکس فائلرز پر یہ ٹیکس ماہانہ 3000 روپے ہے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ دکاندار کے گھر روٹی پوری ہو یا نہ ہو اس کے بچے جئیں یا مریں، چاہے دکان بند ہو چکی ہو لیکن کے الیکٹرک ٹیکس وصول کررہی ہے۔ایک تاجر نے کہا کہ 2 یونٹ کا بل 6 ہزار روپے بھیج دیا گیا ہے، مظاہرین نے احتجاج کے موقع پر بجلی کے بلوں کو آگ لگادی اور شدید نعرے بازی کی، کالا بورڈ کے مقام پر نیشنل ہائی وے بلاک کرنے سے گاڑیوں کی لمبی قطار یں لگ چکی تھیں جبکہ پولیس مظاہرے ختم کرانے اور سڑکیں کھلوانے کے لئے مظاہرین کی منت سماجت کرتی رہی۔


