پاکستان اور ایران کانجی شعبے میں تجارتی لین دین کے فروغ کے عزم کا اعادہ
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور ایران نے نجی شعبے میں تجارتی لین دین کے فروغ اور اس کے حجم کو سالانہ 5ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن آف پاکستان کے تعاون سے پاکستانی چاول کے ایک فیسٹیول کا انعقاد کیاگیا۔فیسٹیول میں ایران کے سرکاری حکام، پاکستان کے سفارتکار، چاول درآمد کرنے والے ایرانی تاجر اور پاکستان کی تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔اس موقع پر ایران کی وزارت برائے زرعی جہاد میں شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر جنرل ہومن فتحی نے چاول کے پاکستانی برآمد کنندگان کا خیرمقدم کیا۔تقریب سے پاکستانی چاول برآمد کرنے والوں کی تنظیم کے سربراہ علی حسام اصغر نے چاول کی پاکستان سے ایران برآمدات کی گنجائشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت ایران کی چاول مارکیٹ میں پاکستانی چاول کا حصہ تیس فیصد تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی چاول ایک اچھے معیار اور کوالٹی کا حامل ہے جس کے باعث خطے میں اسکی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔اس موقع پر پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی نے بھی ایران و پاکستان کے مابین خصوصا نجی شعبے میں تجارتی لین دین کے فروغ اور اسکے حجم کے سالانہ 5ارب ڈالر تک پہنچنے کا اعادہ کیا۔فیسٹیول کے موقع پر دونوں ممالک کی تاجر برادری نے اقتصادی لین دین میں اضافے کے ساتھ ساتھ بارٹر ٹرید کی اہمیت اور اس کے فروغ پر بھی زور دیا۔


