حکومت پنجگور کے زمینداروں کی فوری بحالی کا آغاز کرے، زمیندار ایکشن کمیٹی

پنجگور (نامہ نگار) زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی مولابخش سنجرانی اور دیگر زمینداروں حاجی منصور احمد، حاجی محمد اسحاق، حاجی عبدالعزیز، حاجی محمد آدم شمبے زئی، ڈاکٹر فضل محمد، ریاض احمد، غوث بخش، حاجی عبدالقادر، حاجی نذیراحمد، حاجی عالم خدا دوست، حاجی گل محمد، حاجی بشیر احمد، حضور بخش کچکول، پیر محمد نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پنجگور کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اربوں روپے کی کھجور کی تیار فصل مسلسل بارشوں سے تباہ ہوچکی ہے، جس سے زمیندار طبقہ نان شبینہ کے محتاج بن کررہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کے علاوہ کپاس پیاز تربوزہ خربوزہ انگور انار کی فصلیں بھی بارشوں کی نذر ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں کھجور کے باغات 18 ہزار ایکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں پنجگور میں 235 کاریزات، 216 ٹیوب ویلز اور 750 کے قریب سولر سیٹس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زرعی شعبے میں بارشوں اور سیلاب سے پہنچنے والے نقصانات سے محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے اور محکمہ شماریات کے پاس تفصیلات بھی جمع کرائے ہیں زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ اور چیف سیکرٹری بلوچستان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پنجگور کے سیلاب زدگان سے آکر ہمدردی کی۔ انہوں نے کہا کہ کھجور چونکہ پنجگور کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے حالیہ بارشوں سے اس کی فصل مکمل تباہ ہوچکی ہے کھجور کے کاشتکار بڑے آزمائش سے گزررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی بندات کی تعمیر کے لیے زمینداروں کو بلڈوزر گھنٹے درکار ہیں اور ساتھ میں فصلات کی تباہی پر زمیندار انتہائی کسمپرسی سے دوچار ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے پنجگور کے متاثرہ زمینداروں کی امداد میں تاخیر کی تو پنجگور کی اکثریتی آبادی بدترین معاشی حالات سے دوچار ہونگے انہوں نے کہا کہ حکومت پنجگور کے زمینداروں کی فوری بحالی کا عمل شروع کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں