لاپتہ کفایت اللہ بلوچ بازیاب، عدالت میں پیش
کوئٹہ (انتخاب نیوز) گیارہ فروری 2022ء کو رات لاپتہ ہونے والے کفایت اللہ بلوچ کو منظر عام پر لایا گیا۔ لاپتہ کفایت اللہ بلوچ پیشے کے لحاظ سے اسکول ٹیچر ہیں جبکہ اساتذہ یونین کے عہدیدار بھی رہے ہیں۔ جس وقت کفایت کو لاپتہ کیا گیا تھا اس وقت ان کی اہلیہ حاملہ تھیں، اس کے بعد سے کفایت اللہ کی اہلیہ اپنے کمسن بچوں کے ساتھ سراپا احتجاج تھیں۔ کفایت اللہ بلوچ کی باحفاظت بازیابی کیلئے انکے اہلخانہ نے 17 جولائی کو احتجاجاً قلات منگچر مرکزی آر سی ڈی شاہراہ پر دھرنا دے کر بند کردیا تھا۔ اس کے علاوہ کفایت اللہ کی اہلیہ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے ہونے والے احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں میں بھی اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے سراپا حتجاج تھیں۔ زیارت واقعہ کیخلاف گورنر ہاؤس کے سامنے جاری دھر نے میں کفایت اللہ بلوچ کی اہلیہ اپنے بچوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس کے شوہر کفایت اللہ بلوچ کو مختلف نوعیت کی دفعات لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کے شکار افراد کو اسی طرح عدالت میں پیش کیا گیا۔ رواں سال 8 فروری کو خضدار سے جبری گمشدگی اور بعدازاں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مبینہ گرفتار ہونے والے طالبعلم حفیظ بلوچ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت اوستہ محمد نے باعزت بری کردیا تھا۔


