نوشکی میں سیلاب متاثرین آسمان تلے امداد کے منتظر، حکومت ریلیف میں ناکام

نوشکی (انتخاب نیوز) طوفانی بارش اور سیلاب سے متاثرین کی امداد کا کام تاحال سست روی کا شکار آٹھ روز گزرنے کے بعد بھی متاثرین آسمان تلے بے سروسامانی کی عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں متاثرین خوراک پانی اور خیموں کے منتظر ہیں حکومت اور اعلی حکام میں سے کسی نے بھی نوشکی کا دورہ تک کرنے کی زحمت گواری نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام بالخصوص متاثرین سخت مایوس اور احساس کمتری کے شکار نظر آتے ہیں حلقے کے رکن اسمبلی کی شکایت ہر کمشنر رخشان نے نوشکی آکر ریلیف کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے موثر منصوبہ بندی کا فقدان سرکاری محکموں میں نا اہل اور غیر دلچسپ اور سیاسی مداخلت پر آفیسران کی تعیناتی سے محکموں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے کمشنر کے مطابق ڈیڑھ ہزار گھر مکمل تباہ اور ہزار سے بارہ سو متاثر ہوئے ہیں لیکن اعداد و شمار اس سے کئی زیادہ ہے کیونکہ اکثر کچھے مکانات میں سیلابی پانی داخل ہوا ہے جو اب رہنے کے قابل نہیں اور ان خستہ کمروں میں رہائش خود کشی کے مترادف ہے مستقبل میں ان متاثرہ کمروں اور دیواروں سے انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے سیاب سے جہاں ڈھائی ہزار گھر کر منہدم ہو گئے وہی سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا گیس پائپ لائن خراب ہونے سے شہر اور گردونواح کو تاحال ایل پی جی گیس پلانٹ سے گیس کی فراہمی شروع نہیں ہوئی نوشکی سے کچکی آر سی شاہراہ پر جگہ جگہ کھڈے شگاف پڑ گئے ہیں اور بعض مقامات پر آر سی ڈی روڈ سیلابی پابی میں بہہ گیا ہے نوشکی خاران روڈ سفر کے قابل نہیں رہا ہے قاضی آباد قادر آباد شریف خان مل احمدوال اور گردونواح میں سڑکوں کا نام و نشان باقی نہیں رہا سیلابی ریلوں سے چار سے چھ فٹ کے گہرے کڈھے بن گئے ہیں رکشہ گاڑی اور موٹر سائیکل کے زریعہ سفر بھی ناممکن ہے لوگ اشیا خوردنوش اور ٹینکر کے زریعے پانی نہیں پہنچا سکتے اسی لیئے پورے علاقے میں پانی کی سخت قلت ہے پی ایچ ای کے پائپ لائن اور واٹر سپلائی اسکیمیں ناکارہ ہو چکی ہے ڈاک فیڈر دس روز اور مل فیڈر آٹھ روز اور بعض علاقوں میں سیلاب کے دن سے بجلی کی فراہمی بند ہے بجلی کے کمبے گر گئے ہیں سیلاب سے مال مویشوں اور زراعت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے پیاز سب چارہ کجھور انگور کپاس کی تیار فصل تباہ ہو گئے ہیں بندات ٹوٹ چکے ہیں غژول سمت متعدد ڈیم کریک کر چکے ہیں حکومت کی جانب سے مسلسل عدم دلچسپی اور لوگوں کی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقے کے نوجوان مختلف مقامات پر امدادی کیمپ لگا کر چندہ اکھٹے کرنا شروع کر دیا دالبندین نوکنڈی اور تفتان میں بھی نوشکی کے متاثرین کی امداد کے لیے کیمپ لگا کر امداد سامان اور نقدی اکھٹے کیئے جا رہے ہیں حکومت کی طرح غیر سرکاری ادارے بھی نوشکی کی متاثرین کی امداد سے متعلق عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اب تک کسی غیر سرکاری ادارے کی جانب سے ریلیف کے کام کا آغاز نہیں ہوا جو باعث تشویش ہے ماضی میں عوامی مسائل پر متحد ہو کر جدوجہد کرنے والے سیاسی جماعتیں بھی تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں شدید گرمیں میں متاثرین کی مناسب دیکھ بھال اور ریلیف نہیں دیا گیا تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں