پنجگور میں انٹر نیٹ سروس فراہم کی جائے، آل پارٹیز کا احتجاج

پنجگور (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع پنجگور میں انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندش کے خلاف پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی و ڈپٹی کمشنر آفیس کے سامنے مظاہرہ کیا گیا اس احتجاجی مظاہرے کی حمایت حق دو تحریک سول سوسائٹی جماعت اسلامی و جمعیت علمائے اسلام نے بھی کیا تھا اور احتجاجی مظاہرے میں بھر پور انداز میں شریک تھے سیاسی سماجی جماعتوں کے ساتھ اسٹوڈنٹس کی بڑی تعداد بھی شریک تھے احتجاجی ریلی ماڈل اسکول چوک سے شروع ہوکر اہم شاہراہوں سے گزری۔ شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر انٹرنیٹ ڈیٹا کی بحالی کے جملے درج تھے۔ ریلی ڈپٹی کمشنر پنجگور آفیس کے سامنے جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔ مظاہرین سے پاکستان مسلم لیگ ن مکران کے صدر اشرف ساگر، حق دو تحریک کے ضلعی ڈپٹی آرگنائزر ملا فرہاد، سول سوسائٹی کے کنوینر گہرام شریف، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی علی احمد، جماعت اسلامی کے حافظ صفی اللہ، سیاسی، سماجی شخصیت و نیشنل پارٹی کے رہنما رحمدل بائیاں و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جدید دور میں پنجگور میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندش یہاں کے لوگوں پر ظلم ہے، اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ ڈیٹا، ایجوکیشن، کاروبار و رابطوں کا ذریعہ و جینے کا سبب بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور کے حالات کی خرابی کا نام دے کر ہمیں جینے کے ذرائع چھیننے کی سازش ہے۔ پنجگور سے زیادہ ملک کے دیگر حصوں میں حالات خراب ہیں تو وہاں دست شفقت کیوں اور بلوچستان بالخصوص پنجگور کے عوام کے ساتھ اظہار نفرتیں کیوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملکی ادارے بلوچ قوم کو بزور ملک مخالفت کی جانب لے جارہے ہیں۔ اس جدید دور میں ہر کوئی واقف ہے کسی کو جملوں کی ہیرا پیری سے ٹرخایا نہیں جاتا، اس دوران انہوں نے ایک یادداشت ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالرزاق ساسولی کو پیش کی جس میں لکھا گیا تھا کہ پنجگور آبادی کے حوالے سے بلوچستان تیسرے نمبر پر ہے جہاں سات لاکھ کم و بیش لوگ زندگی گزار رہے ہیں اور مکران کے کاروبار کے حوالے سے ایک جنکشن روٹ ہے یہاں نہ صرف پنجگور بلکہ کاروباری لوگوں کی اکثریت سے تجارت چل رہی ہے، اسی تجارت و کاروبار کے ٹکسسز کی وجہ سے پاکستان کے رینویو کو بھی فائدہ حاصل ہے یہاں ایک ہزار سے کم و بیش سرکاری، سینکڑوں کی تعداد میں غیر سرکاری اسکول موجود ہیں، آٹھ مختلف کالجز دو بوائز و گرلز ڈگری کالج ایک فل فلیج یونیورسٹی ایک ٹیچنگ ہسپتال ایک پچاس بیڈڈ و لیڈی ریڈنگ کالج کے ساتھ سینکڑوں غیر نصابی ایجوکیشن فرم کام کررہی ہیں، سٹی میں تیس ہزار دکانیں رجسٹرڈ ہیں پی ٹی سی ایل کی محدود سروس کی وجہ سے جن کے پاس دو سو کے قریب پی ٹی سی ایل کنکشن موجود نہیں۔ اٹھائیس ہزار دکانداروں کے آن لائن کاروبار تباہ ہوچکے، پی ٹی سی ایل دفتر کے کچھ قدم سے آگے پی ٹی سی ایل کا کوئی کنکشن نہیں ہے۔ ان تمام حالات و واقعات عوامی مانگ و جدید دور کی ضرورت کے باوجود بھی افسوس کی بات ہے کہ اس کاروبار و تجارتی تعلیمی شہر میں نہ ڈی ایس ایل ہے نہ پی ٹی سی ایل ہے نہ ای وی او وینگل ہے اور تمام موبائل کمپنیوں کے موبائل ڈیٹا انٹرنیٹ فعال حالات میں موجود ہیں، انہیں غیر وجوہات کی بنیاد پر ہر دو سال میں غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پنجگور کے کاروبار آن لائن ایجوکیشن اس جدید دور میں بہ دست پنجگور کو حیلہ بہانوں سے انٹرنیٹ سے دور رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ اس ملک کے آئین وقانون کے خلاف اقدام ہے۔ پنجگور کے عوام و اسٹوڈنٹس، سول سوسائٹی، آل پارٹیز نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ملک کے ادارے ہمیں گھر گھر، دکان دکان پی ٹی سی ایل عام آدمی کو موبائل ڈیٹا نہیں دے سکتے تو اپنے موبائل فرنچائز موبائل ٹاورز پی ٹی سی ایل کے نظام کو بند کریں، اہلیان پنجگور اداروں کو ایک ہفتے کی الٹی میٹم دیتی ہے کہ وہ اپنے تمام موبائلز ڈیٹا کو دوبارہ کھول دیں اور محکمہ پی ٹی سی ایل ہر شہر میں اپنا کنکشن بحال کریں بصورت دیگر ہمیں فرنچائز موبائل ٹاورز کو بند و پی ٹی سی کے دفتر کو تالا لگائیں ہمیں ادارے سہولیت دے نہیں سکتے ہیں وہ انہیں مکمل طور پر بند کریں۔ ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالرزاق ساسولی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ انکے مسئلے کو آگے لے جائیں گے جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں