پشین اور گردونواح میں بارش سے سڑکیں اور پل متاثر، فصلیں برباد

پشین (انتخاب نیوز) پاک افغان سرحد پر واقع ضلع پشین کے سرحدی علاقے توبہ کاکڑی اور برشور میں مون سون کی رواں بارشوں نے تباہی مچادی ہے، مختلف شاہراہوں پر واقع درجنوں چھوٹے بڑے پل متاثر ہوکر مختلف زرعی اجناس، کھڑی فصلوں اور سرسبز باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ قریبی ہمسایہ ملک افغانستان جانیوالی شاہراہ پر واقع توبہ کاکڑی کے علاقے غیژ، نگاندہ، گولئی، کشمیر، ولمہ، مرغہ عیسی زئی، ولگء، بچکہ اور تورہ غاڑہ میں بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں اور آبی راستوں میں شدید طغیانی آنے سے مختلف زرعی اجناس، باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے، شاہراہوں پر واقع مختلف پلوں کو نقصان پہنچنے کے بعد علاقے کے عوام کا ضلعی ہیڈکوارٹر پشین سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، عالمی شاہراہ پر واقع شارغلی پل اور کت محمد شاہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہوکر ہرقسم کی ٹریفک معطل ہوگئی ہے، دوسری جانب برشور توبہ کاکڑی سے صوبہ سندھ اور پنجاب کو سپلائی کی جانیوالی زرعی اجناس اور پھل بارشوں کے سبب اور زمینی راستوں کی بندش کے باعث سخت متاثر ہوئے ہیں، اور علاقے کے عوام دور دراز قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ اور کنجوغی کے راستے استعمال کرنے پر مجبور ہیں، علاقے کے ممتاز سیاسی اور سماجی رہنما نصیب اللہ کلیوال نے بتایا کہ توبہ کاکڑی اور برشور حالیہ طوفانی بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں لیکن تاحال علاقے میں سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر کسی ریسکیو آپریشن اور ریلیف ریبلیٹیشن کا آغاز نہیں ہوسکا ہے، اور نہ کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے، انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری ایم پی اے نصراللہ زیرے سے پر زور مطالبہ کیا کہ زندگی کی تمام تر سہولیات سے محروم برشور توبہ کاکڑی کے عوام پر ترس کھاکر فوری ریلیف شروع کریں اور بند راستوں کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں