بی این پی کے حکومتی اتحاد سے 80 فیصد پارٹی ورکرز و عوام مایوس ہوچکے، موسیٰ جان

قلات (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر و سابق صوبائی وزیر پرنس آغا موسیٰ جان احمد زئی بلوچ نے کہا ہے کہ بی این پی کے حکومتی اتحاد سے 80 فیصد پارٹی ورکرز و عوام مایوس ہوچکے ہیں، میں دیکھ رہا ہوں کی سابق وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ہے وہ عوام کی بہت زیادہ توجہ حاصل کررہا ہے، تیر کمان سے نکلنے سے پہلے بی این پی کی طرف سے حکومت کو گڈ بائے کرنا چاہیے، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور عوام کی خدمت و انکے کام نہیں ہورہے، 80 فیصد پارٹی ورکرز وفاقی و صوبائی اتحاد سے مکمل مایوس ہوچکے ہیں۔ وفاق میں شہباز شریف اور صوبے میں قدوس بزنجو اور اسکی کیبنٹ کی وجہ سے بی این پی دن بدن تاریکی کی طرف جارہی ہے۔ پارٹی کے چند پارلیمنٹیرین کی ذاتی خواہش پر پارٹی کے نظریہ کو قربان نہیں کرسکتے۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان قلات کا دورہ کرتے اور قلات کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے، حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت فوری اقدامات کرے اور مخیر حضرات امداد کیلئے آگے بڑھے۔ قلات کے صحافی اختلافات بھلا کر متحد ہوکر مسائل کی نشاندہی کرکے عوامی و علاقائی مسائل اجاگر کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ شاہی دربار قلات میں میر احمد یار خان پریس کلب قلات کے صحافیوں پی ایف یو جے ورکرز سی ای سی کے ممبر میر غلام حسین شاہوانی، ضلعی صدر فیض نیچاری، جنرل سیکرٹری مقبول گل محمد شہی، فنانس سیکرٹری ضیا الرحمن مینگل، اسرار احمد مینگل، یاسر زہری و دیگر صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی پرتکلف ٹی پارٹی کے موقع پر صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیم یافتہ جوانوں اور عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، جب کام نہیں ہوسکتے تو وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ صوبائی و وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کرکے شہباز شریف و قدوس بزنجو کی دوستی سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، صحافی اختلافات بھلا کر متحد ہوجائیں اور عوامی مسائل اجاگر کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں