بلوچ قومی جہد کو خطرہ سمجھنے والے قوم پرستی کو غلط پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بی ایس او
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او ڈگری کالج یونٹ کا ہفتہ وار سٹڈی سرکل بروزِ منگل بی ایس او ڈگری کالج سرکل میں یونٹ سیکرٹری شاہ زمان بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس کے مہمان خاص شال زون کے ڈپٹی آرگنائزر عاطف رودینی بلوچ اور اعزازی مہمانان بی ایس او اتھل زون کے سابق صدر عامر نذیر بلوچ اور سینئر ممبر فہد آصف بلوچ تھے۔ شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے سرکل کا آغاز کیا گیا۔ سرکل کی کارروائی ڈگری کالج یونٹ کے سینئر ممبر کامران رودینی بلوچ نے چلائی۔ سرکل میں بی ایس او ڈگری کالج یونٹ کے کثیر تعداد میں ممبران نے شرکت کی۔ عنوان پر لیکچر کے بعد سوال جواب کی نشست بھی رکھی گئی۔ مقررین نے قوم اور قومیت کے تعارف، بلوچ سماج میں قوم پرستی کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ قوم پرستی بمقابلہ طبقاتی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قومی تاریخ میں دیکھا جائے تو بلوچ قومی جدوجہد کی اولین ترجیح قومی سوال رہا ہے اور اب بھی ہماری اولین ترجیح قومی سوال ہونا چاہیے۔ بابا خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب بگٹی سمیت دیگر اکابرین نے قومی سوال کو اولین ترجیح دی اور طویل عمر اسی جدوجہد میں گزاری۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم پرستی اور قومی جہد کو خطرہ سمجھنے والے ہمیشہ قوم پرستی کو غلط پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوچ قومی وجود کو مٹانے والے قوم پرست اور خود کو بلوچ کہنے والوں کو نسل پرستی و تنگ نظری کا نام دیتے ہیں۔ بلوچ قوم کی دیگر مظلوم قوموں کی خاطر جدوجہد ان کی جہد کی حمایت اور دیگر مظلوم و محکوم اقوام پر ہونے والے ظلم کیخلاف بات کرنا بلوچ نسل پرستی و تنگ نظری کی باتوں کی نفی کرتا ہے، قوم پرست نظریات و قومی بقا کے خاطر ایک طبقہ، کلاس و سرکل سے نکل کر جدوجہد کرتا ہے۔


