خضدار، کھٹان میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی، پینے کے پانی کی قلت

خضدار(بیورورپورٹ)سماجی رہنماءرئیس اعجاز مینگل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خضدار کھٹان میں شدید گرمی کے باوجود واپڈا کی جانب سے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے دن ہو یا رات بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کم وولٹیج آنکھ مچولی سے گھروں میں سکون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اس ناقابل برداشت صورتحال میں معصوم بچے، بزرگ شہری اور گھروں تک محدود مریض شدید اذیت سے دوچار ہیں گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی قلت بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ موٹریں بجلی نہ ہونے کے باعث بند پڑی ہیں ڈاکٹروں کے مطابق ماحول میں نمی اور گندگی کے باعث ملیریا سمیت دیگر وبائی امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں لیکن اسپتالوں میں بھی بجلی کی عدم دستیابی کے سبب مریضوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہے کھٹان کے عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے واپڈا کے اس ناروا سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ، واپڈا انتظامیہ نے عوام کو گرمی میں تڑپنے کے لیے چھوڑ دیاہے اور لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول بھی جاری نہیں کیا جاتاانہوں نے مطالبہ کیا کہ واپڈا فوری طور پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے اور اپنے رویے میں فوری بہتری لائےاگر عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیاگیا تو عوام کے ساتھ مل کر سخت احتجاجی راستہ اختیار کیا جائے گاآخر میں اہلیان کھٹان نے چیف کیسکو بلوچستان اپیل کی ہے کہ کھٹان کے عوام کے ساتھ ظلم وزیادتی کا نوٹس لیکر بجلی فراہمی بہتربنائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں