آواران، محکمہ صحت کی اسامیوں پر دو بار انٹرویوز کے باوجود تقرریاں التواءکا شکار، نوجوانوں میں شدید تشویش
آواران (عبدالوحید شوہاز) ضلع آواران میں محکمہ صحت کی مختلف خالی اسامیوں کے لیے دو مرتبہ انٹرویو کے مراحل مکمل ہونے کے باوجود تاحال کامیاب امیدواروں کو تعیناتی لیٹرز جاری نہیں کیے جا سکے۔ اس طویل التواءکے باعث علاقے کے تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوانوں میں شدید مایوسی اور تشویش کی لہر پھیل گئی ہے۔ محکمہ صحت میں متعدد پوسٹوں کے لیے امیدواروں نے شفاف عمل کی امید پر دو مختلف ادوار میں انٹرویوز دیے، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی نہ تو فائنل میرٹ فہرستیں آویزاں کی گئیں اور نہ ہی احکامات جاری ہوئے۔ اس صورتحال نے امیدواروں کے مستقبل کو داو¿ پر لگا دیا ہے۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس غیر معمولی تاخیر کے پیچھے مقامی نمائندوں اور بااثر حلقوں کا باہمی گٹھ جوڑ اور اندرونی اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر پوسٹوں کی بندر بانٹ اور اپنے من پسند افراد کو جگہ دینے کی کوششوں کے باعث پورے تقرری کے عمل کو منجمد کر دیا گیا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ضلع آواران میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ یہاں میرٹ کا وجود ختم ہو چکا ہے اور صرف ‘سفارش کلچر’ ہی کو فوقیت حاصل ہے۔ اہل اور مستحق نوجوانوں کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھنا ایک انتہائی افسوس ناک عمل ہے، جو علاقے کی ترقی اور پڑھائی کی طرف راغب نوجوان نسل کے اعتماد کو شدید ٹھویس پہنچا رہا ہے۔متاثرہ نوجوانوں اور مقامی عوام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سے التماس کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی و غیر متعلقہ مداخلت کو ختم کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر انٹرویو پاس کرنے والے امیدواروں کے نوٹیفکیشن فوری جاری کیے جائیں تاکہ نوجوانوں میں پھیلتی بددلی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔


