فرح عظیم پر ہمیں اعتراض نہیں، قدوس بزنجو صوبے کو سنبھال لیں تو بڑی بات ہے، منظور کاکڑ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر منظور احمدکاکڑ نے کہاہے کہ جام کمال کو بھی ورکرز اور صوبے کونظرانداز کرنے پر ہٹایا گیا تھا، سیلاب سے 300 اموات، 22 پل اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ سیلابی ریلوں میں لوگوں کی جھونپڑیاں بھی بہہ گئیں، بحیثیت پارٹی جنرل سیکرٹری وزیراعلیٰ سے 14 دن میں ملاقات نہیں ہوسکی۔ میر عبدالقدوس بزنجو صوبے کو سنبھالیں تو بڑی بات ہے۔ فرح عظیم پر ہمیں اعتراض نہیں ان میں ہوگا کوئی ٹیلنٹ جو وزیراعلیٰ نے انہیں ترجمان مقرر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ خود ایک گھنٹہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو بریفنگ دیتے رہے لیکن ہمارے چیف ایگزیکٹو کھڑے رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ذاتی اختلافات نہیں ماضی کو دیکھیں تو پارٹی کو نقصان جیسے خدشات پر صورتحال تبدیل ہوئی ورکرز کو توجہ نہیں دی جارہی تھی۔ میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بلوچستان اور باپ پارٹی کے صدر ہے۔ بلوچستان میں سیلاب آیا ہمارا صرف درخواست ہے سب کو پتہ ہے کہ بلوچستان اس وقت ڈوب چکا ہے، بڑی مشکل سے صوبے میں انفرا اسٹرکچر بنا تھا، سیلابی صورتحال کی وجہ سے بار بار وزیراعلیٰ سے رابطہ کرتے رہے، 34 اضلاع متاثرہ ہیں اگر وزیراعلیٰ بلوچستان خود تمام اضلاع کا دورہ کرتے تو اس کے مثبت اثرات برآمد ہوتے، ان کے مصروفیات زیادہ ہوں گی اب بھی لوگوں کے شکایات ہیں کہ ہم امدادی سرگرمیوں سے محروم ہیں، بلوچستان میں بارشوں کی وجہ سے پل ٹوٹ گئے اور شاہراہیں تباہ ہوگئیں جس کی وجہ سے دوسرے صوبوں سے رابطے منقطع ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس مشکل حالات میں بلوچستان کے عوام کو اکیلا چھوڑا جائے تو پھر یہ کسی کیلئے نیک شگون نہیں، بلوچستان کے لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سیلابی ریلوں میں لوگوں کی جھونپڑیاں بھی بہہ گئیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان گراﺅنڈ پر کام کریں۔ میر ضیاءاللہ لانگو سمیت تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اپنی طرف سے بھرپور کوششیں کرتے رہے، صوبے کے سربراہ کے ہوتے ہوئے انہیں آگے آنا چاہےے، ہم نے اپنے اختلافات رکھے ورکرز اور اپنے لوگوں کی مشکلات کی وجہ سے اختلافات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن کے اوپر جمعیت علماءاسلام یا بلوچستان نیشنل پارٹی مسلط ہوں توہم اپنے کارکنوں کو کیا جواب دینا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ 14دن میں کوئٹہ میں رہا ان 14 دنوں میں وزیراعلیٰ بلوچستان ملے ہی نہیں، جب 14دن میں وزیراعلیٰ کی جنرل سیکرٹری سے ملاقات نہیں ہوتی تو پھر لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ ہنہ اوڑک میں جتنی تباہی ہوئی ہے مجھے پتہ ہے، جام کمال کے ساتھ ہمارے ذاتی اختلافات نہیں تھے، ان کے بھی وزیراعلیٰ ہاﺅس کے دروازے بند تھے وہ 5 اور 6 گھنٹے انتظار کراتے تھے مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ میں وزیراعلیٰ سے ملوں وہ صوبہ سنبھالیں تو بڑی بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں