مرادجان عثمان کے اغواءکے خلاف ببرشور کے مکینوں نے پسنی زیروپوائنٹ کو احتجاجا ًبند کردیا

پسنی (انتخاب نیوز) پسنی کے کاروباری شخصیت مراد جان عثمان کے اغواء کے خلاف شہریوں نے مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیرو پوائنٹ کے مقام پر بلاک کردی، خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں کوسٹل ہائی وے پر دھرنا، مکران کوسٹل ہائی وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں گوادر سمیت تربت، کراچی کا مکران سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا،حق دو تحریک کی دھرنے کی حمایت کا اعلان اور کارکنوں کی شرکت،اگر مراد جان عثمان کو بازیاب نہیں کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کریں گے،حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمن کا اعلان، ایس پی سیکورٹی گوادرفہد کھوسہ کی مظاہرین سے مذاکرات اور مغوی کی بازیابی کیلئے 24 گھنٹے کی مہلت مانگ لی۔مظاہرین نے چوبیس گھنٹے کے لیے دھرنا مؤخر کردیا۔ ضلع گوادر کے کاروباری شخصیت مراد جان عثمان جسے پیر کی شام کو ببرشور وارڈ نمبر 1 میں اس کے گھر کے سامنے سے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا جس کے باعث انکی بازیابی کے لیے لواحقین اور پسنی کے شہریوں نے منگل کی صبح مکران کوسٹل ہائی وے کوپسنی زیرو پوائنٹ کے مقام پردھرنا دیکر بلاک کردیا، جس سے ٹریفک مکمل طور معطل رہی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ گوادر، تربت، جیونی سمیت مکران کا زمینی رابطہ کراچی اور دوسرے شہروں سے منقطع ہوگیا اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا جبکہ دوسری جانب مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پسنی انجمن تاجران، حق دو تحریک گوادر کے سربراہان سمیت کاروباری شخصیات اور دیگر طبقائے فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر دھرنے میں موجود شرکاء نے مراد جان عثمان کی اغواء کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پسنی میں مسلح افراد دن دہاڑے لوگوں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں اغواء کررہے ہیں جوکہ پسنی کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ پسنی جو ایک پرامن علاقہ ہے اور علاقے میں لوگوں کو اغواء کرنا علاقے کے امن و امان کو خراب کرنے کی ایک سازش ہے اور ایسی سازشوں کو پسنی کے عوام کھبی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے مراد جان عثمان کی بزور بندوق اغواء کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حق دو تحریک کے کارکنوں کو دھرنا گاہ پہنچنے کی تاکید کی جس پر حق دو تحریک کے ضلعی رہنما حسین واڈیلا سمیت دیگر کارکنان دھرنا گاہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر حسین واڈیلا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ علاقے کے امن وامان کو برقرار رکھنے میں مکمل طور پرناکام ہے، اور پسنی جیسے چھوٹے شہر میں لوگوں کو دن دہاڑے گن پوائنٹ پر اغواء کرنا بدامنی کی تاثر کو ہوا دے رہا ہے، اگر انتظامیہ نے مہلت تک مغوی مراد جان کو بازیاب نہیں کرایا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کریں گے۔ دریں اثناء ایس پی سیکورٹی گوادر پولیس فہدکھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ، ڈی ایس پی پسنی لعل جان بلوچ اور ایس ایچ او پسنی محسن بلوچ نے مظاہرین سے مذاکرات کیئے لیکن احتجاجی خواتین نے روڈ کھولنے سے انکار کردیا۔ احتجاجی خواتین کا مطالبہ تھا کہ جب تک مراد جان عثمان کو بازیاب نہیں کیا جاتا وہ دھرنا پر بیٹھی رہیں گی لیکن بعد میں نومنتخب کونسلر اور ذکری مذہبی پیشوا سید اظہار جان نوری کی اپیل پر شاہراہ کو خواتین نے ٹریفک کے لیئے کھول دیا، احتجاج کی وجہ سے مکران کوسٹل ہائی وے 8گھنٹے کے لیئے ٹریفک کے لیئے بند رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں