جیکب آباد، خسرہ سے بچہ جاں بحق، گیسٹرو اور ملیریا سے اب تک 90 سے زائد ہلاکتیں

جیکب آباد (انتخاب نیوز) جیکب آباد میں سیلاب متاثرہ کیمپ میں خسرہ کے باعث معصوم بچہ فوت، کئی بچے مبتلا۔ سیلاب کے بعد بیماریاں نئی آفت، جیکب آباد میں گیسٹرو اور ملیریاکے باعث ایک ماہ کے دوران 90سے زائد ہلاکتیں، ہزاروں بچے، خواتین و مرد مبتلا، محکمہ صحت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں سیلاب متاثرہ کیمپ میں الٰہی بخش برڑو کا 3سالہ بیٹا آزاد خسرہ کی وباء کے باعث فوت ہوگیا ہے، گیسٹرو اور ملیریا کے بعد اب خسرہ کی وباء نے معصوم بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے اور سیلاب متاثرہ کئی بچے خسرہ میں مبتلا ہوچکے ہیں، سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے صحت کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی جس کے باعث آئے روز اموات ہورہی ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ خسرہ، گیسٹرو اور ملیریا کے روکتھام کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ جیکب آباد ضلع میں بارشوں اور سیلاب کے بعد ملیریا اور گیسٹرو کی وباء تیزی سے پھیلنے لگی ہے بارشوں اور سیلاب کے بعد سے اب تک ایک ماہ کے دوران ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں اب تک 90سے زائد اموات ہوچکی ہیں جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بچے، خواتین و مرد ملیریا اور گیسٹرو میں مبتلا ہوچکے ہیں، ملنے والی اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ کے دوران ملیریا اور گیسٹرو کے باعث تحصیل ٹھل میں 35، تحصیل گڑہی خیرو میں 32اور تحصیل جیکب آباد میں 28سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ضلع بھر میں ایسی خطرناک صورتحال کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور متاثرین کے علاج کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جس کے باعث مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی ایچ او جیکب آباد ڈاکٹر عبدالغفار رند نے رابطے پر بتایا کہ سیلابی صورتحال کے بعد ملیریا اور گیسٹرو کی وباء تیزی سے پھیلی ہے محکمہ صحت ان پر قابوپانے کی کوشش کررہی ہے اس سلسلے میں مختلف سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کی گئی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیمیں بھیجی جارہی ہیں تاکہ لوگوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں