بلوچستان میں حکومتی رسہ کشی، جے یو آئی کو سب سے زیادہ حصہ دیا گیا، اصغر اچکزئی

کوئٹہ :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جام حکومت کے خاتمے کیخلاف جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ عملی طورپر حکومت کا حصہ دار رہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں حکومتی پارٹیوں سے انکو زیادہ فنڈنگ دی گئی جمعیت علماء اسلام کا حکومت میں شمولیت کوئی نئی بات نہیں، جمعیت اگر بیس روز انتظار کرتی تو اسکے بعد وزارتیں لیتی تو بہتر ہوتا، لیکن جلد بازی میں یہ فیصلہ کرنا شاید ان کیلئے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اصغر خان اچکزئی نے مزید کہا کہ جب جام کمال خان کی حکومت ختم کردی گئی تو موجودہ اپوزیشن عملی طور پر اسی روز سے حکومت کا حصہ رہی لیکن پی ایس ڈی پی میں حکومتی پارٹیوں سے بڑھ کر انہیں حصہ دیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کا حکومت میں وزارتیں لینا کوئی انہونی بات نہیں لیکن بیس روز اگر انتظار کرتے، سیلاب کی صورتحال کچھ بہتر ہوتی تو اسکے بعد شمولیت کرتے تو بہتر ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں اصغر اچکزئی کا کہنا تھا کہ نصیرآباد میں 27 لاکھ لوگوں کے زندگی کو خطرہ ہے لیکن یہاں حکومتی رسہ کشی جاری ہے، جمعیت علماء اسلام کے شمولیت کے بعد اے این پی اور پی ٹی آئی حکومت میں رہے گی، یا نہیں اس کا جواب وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ہی بہتر دے سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ اگلے پی ایس ڈی پی میں حکومت کچھ خرچ کر پاتی کیونکہ ستمبر، اکتوبر انتخابات ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں