ڈیرہ اللہ یار، تاجروں اور سیلاب متاثرین کے صبر کا پیمانہ لبریز، احتجاجاً شاہراہ بند کردی

جعفرآباد (انتخاب نیوز) ڈیرہ اللہ یار میں تاجر برادری اور سیلاب متاثرین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بائی پاس اور شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا احتجاج کے دوران مظاہرین اور ٹرانسپورٹرز کے مابین جھڑپ بھی ہوئی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اللہ یار میں امداد نہ ملنے اور نکاسی آب نہ ہونے کے خلاف سیلاب متاثرین اور تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا سیلاب متاثرین اور تاجروں نے الگ الگ احتجاج کرتے ہوئے بائی پاس اور شاہراہ پر دھرنے دیے نواحی گاوں رضا محمد راہوجہ کے رہائشی سیلاب متاثرین نے امدادی سامان نہ ملنے کے خلاف سابق کونسلر گلاب خان راہوجہ کی قیادت میں بائی پاس پر رکاوٹیں کھڑی کرکے دھرنا دیا اور ٹائر نذر آتش کیے جسکے باعث سندھ بلوچستان اور پنجاب کو ملانے والی ٹریفک بند ہوگئی۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اس موقع پر گلاب خان راہوجہ کا کہنا تھا کہ سیلاب کو آئے ایک ماہ گزر گیا لوگ آسمان تلے موسمی حالات کے رحم و کرم پر ہیں بچے بوڑھے اور خواتین بیمار پڑ گئے نا خیمے فراہم کیے گئے نا راشن اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں انتظامی افسران ملنے کو تیار نہیں امدادی سامان فروخت کیا جارہا ہے دوسری جانب فرٹیلائزر تاجروں نے سیوریج کا پانی نکاس نہ کرنے کیخلاف شاہراہ پر دھرنا دیا، انکا کہنا تھا کہ شہر سے سیلابی اور سیوریج کا پانی نکاس کرنے کا ٹھیکہ نجی ادارے کو دیا گیا تاہم نجی ادارہ سیلابی اور سیوریج کا پانی نکاس نہیں کررہا شاہراہ پر سیوریج کا پانی جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے ہمارے کاروبار تباہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سیوریج اور سیلابی پانی نکاس کیا جائے مظاہرین کو ایس ایچ او عبدالروف جمالی اور قانونگو حاجی عبدالغنی چاچڑ نے یقین دہانی کروا کر احتجاج ختم کروا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں