جوہری بم اور دنیا کو سلامتی کی فکر
تحریر: محمد صدیق کھیتران
مورخہ 15 اکتوبر 2022 کو امریکی صدر جیوبائڈن نے اپنے بیان میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اپنی سخت پریشانی کا اظہار کیا ہے۔اس کے جواب میں حکومت پاکستان نے بھی اپنی بساط کے مطابق زور دار ردعمل دیا ہے۔پاکستان نے یہ جوہری ہتھیار 1980s کی دہائی میں تیار کیا تھا۔اور کہا جاتا ہے اس کا پہلا ٹیسٹ بھی چین میں کیا گیا تھا۔اس حساب سے دیکھا جائے تو اس ہتھیار کی دیکھ بھال کو اب چار دہائیاں ہونے کو ہیں۔اس دوران لیبیا،ایران،سعودی عرب، شمالی کوریا کوایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اسکینڈلز بھی سامنے آئے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے پاکستانی موجد ڈاکٹر عبدالقدیر کے جنازے میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے شرکت سے بھی اجتناب برتا۔بھٹو کی پھانسی،پاکستان کی بری طرز حکمرانی، اقتدار اعلءپر فوج کا قبضہ،افغان تنازعہ، مذہبی شدت پسندی اور بدترین غریبی وہ عوامل ہیں جس کی وجہ سے کم و پیش ساری دنیا کو ان ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں چلے جانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔یہ تفکرات اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب ان کے رکھوالے اور راز و نیاز سے باخبر فوجی جنرل نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد مذہبی شدت پسند گروپس کے ساتھ قربت اختیار کرتے ہیں۔بلکہ بعض تو ان شدت پسند تنظیموں میں شمولیت بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان اور دوسری ذی روح حیات کو اگر وجود کا سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے تووہ ایٹمی جنگ کی ہولناکی سے ہے۔یہ تو ایک حقیقت ہے جاپان پر دو ایٹمی حملوں کی منظوری امریکہ کے جمہوری صدر "ٹرومن” Truman نے 6 اگست 1945 کو دی تھی اور پھر تاریخ میں 356،000 جاپانی شہریوں کے اجتماعی قتل عام کا آج تک کوئی محاسبہ بھی نہیں ہوسکا۔1966 میں جب کیوبا کے میزائل کا بحران براعظم امریکہ میں ہوا۔تو امریکہ کو اپنی سرزمین پر سب سے بڑا خطرہ ایٹمی حملے کا ہوا تھا۔حالانکہ سویت یونین نے ان ایٹمی میزائیلوں کی تعیناتی امریکہ کی اسی طرح کے میزائل ترکی میں سوویت یونین کو نشانے پر لے کر لگانے کے ردعمل میں ہوئی تھی۔اس وقت دانشور اورعام آدمی کی پختہ رائے تھی انسان اتنا عقلمند نہیں ہوسکتاکہ وہ تباہی کو روک سکے۔ان کے نزدیک یہ صرف وقت کی بات ہے۔کسی بھی وقت متحارب ممالک کے درمیان سرد جنگ ایک گرم جنگ میں بدل سکتی ہے۔ بہرحال اس وقت امریکیوں کی دانش نے کام کیا اور جوہری جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔یہاں یہ کہا جاسکتا ہے اس دور کے زیرک جہاں انسانوں نے کامیابی سے ایٹمی جنگ کے خطرات کے خلاف یک زبان ہوکر کام تھا۔ مجبور ہو کر روس،امریکہ اور یورپ نے مل کر ہزاروں سال پرانے گرم جنگوں کے طریقہ کار پر انحصارکم کیا۔اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا ذمہ دار بھی امریکہ ہی ہے اس نے یہ جوہری بم 16 جولائی 1945 کو بنایا اور 20 دنوں کے اندر اندر ایک ایشیائی ملک جاپان کے خلاف استعمال کیا۔اس کے خوف میں سوویت یونین نے 12 اگست 1953 کو اپنا جوہری بم بنایا۔چین اپنے لیئے انیسویں صدی کو ذلت کی صدی سمجھتا ہے روس نے 1858-1860 کے درمیان آمور کا 910,000 مربع کلو میٹر ( پاکستان سے بڑا) کا علاقہ جو جنوبی سائبریا سے لیکر کوریا تک پھیلا ہوا ہے اس کو چین سے چھین لیا تھا۔ماو کے کیمونسٹ انقلاب کے بعد اس کو امید ہوچلی تھی کہ کیمونسٹ سوویت یونین یہ علاقہ کسی صورت واپس لوٹا دے گا۔مگر ایسا ہوا نہیں۔بعد میں نظریاتی اختلاف روسی صدر خروشیف کے دور میں وسیع ہوئے تو روس اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات سامنے آنے لگے۔سرحدوں پر تصادم ہونے لگے اور فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوگئیں۔چین کو روسی ایٹم بم سے خطرہ تھا لہزا اس نے 16 اکتوبر 1964 کو اس کا توڑنکالا۔1959 کو دلائی لامہ کی قیادت میں تبت میں چین کے خلاف بغاوت ہوئی جس کی وجہ سے دلائی لامہ کو بھاگ کر ہندوستان میں سیاسی پناہ لینی پڑی۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی چھڑپیں روز کا معمول بن گئی تھیں آخر کا نومبر 1962 کو چین اور ہندوستان کے درمیان بڑی جنگ ہوئی۔ہندوستان کو چین کے جوہری بم سے خطرہ تھااس نے 28مئی 1974کوایٹم بم کا تجربہ راجستھان کے مقام پکھران کیا۔
اس سے پہلے 3دسمبر1971 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مشرقی پاکستان میں جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں پاکستان کو شکست ہوئی اور اس کا ایک صوبہ علیحدہ ہو کر نیا ملک بنگلہ دیش بنا۔باقی ماندہ مغربی پاکستان کو ہندوستان سے خطرہ لاحق تھا۔لہزا اسنے بھی ہندوستان کے مقابلے میں اپنا ایٹم بم 1980s کی دہائی میں بنایا۔ جس کا سرکاری طور پر ٹیسٹ 28 مئی 1998 میں کیا گیا۔یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں تھا کہ امریکہ اور دیگر نیوکلیئر کلب کے ممبران کو اس بارے میں علم نہیں تھا۔حقیقت کے برعکس پورا مغرب اپنے حریف سوویت یونین کو شکست دینے کیلئے اسلامی مذہبی انتہاپسندی کو آنکھیں بند کر کے مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہا۔اس دوران اس کو ایٹمی پھیلاو سے بھی کوئی خطرہ نہیں تھا۔انتہاپسندی کا بھوت جب پاکستان کو روندتا ہوا نیویارک تک جا پہنچا تب اس کو ایٹمی ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کا ٹائیفائیڈ ہونے لگا۔اس ساری تاریخی تمہید باندھنےکا مقصد یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار سب سے پہلے امریکہ سے نکلا ہے اور اس کی ہی وجہ سے یہ ہتھیار باقی دنیا کو بھی بنانا پڑا۔دنیا میں اب تک 2500 ایٹمی تجربات ہوئے ہیں جن میں سے امریکہ نے سب سے زیادہ 1000تجربے کیئے ہیں۔اگر دنیا کو واقعی ایٹمی خطرات سے بچانا ہے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعات کو حل کروانا ہوگا تب جاکر اس سردی والے بخار کا خاتمہ ممکن ہو سکےگا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ایٹم بم سے نجات کے دوسرے تمام ذرائع نا تو کارگر ہونگے اور ناہی خطے میں امن لاسکیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی پیداکردہ رجعت اور اس کے انفراسٹرکچر کو مشرقی وسطئ،خلیج فارس اور پاکستان سے ختم کراناہوگا۔تب جاکر دنیا کو صحیح معنوں میں امن کی شعاع دکھائی دے گی۔ بقول امریکی صدر بش نیویارک ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ صلیبی جنگ کا تسلسل تھا۔اس "صلیبی جنگ” کو مالی بحران پیدا کرنے، خفیہ دہشتگردی اور ٹیکنالوجی کی مدد سے گرم رکھنا ایک متعلقہ یعنی Relevancy دکھاتا بے۔سوویت یونین کے ساتھ یہ سرد جنگ تو کسمیاب رہی مگر اب نان اسٹیک ہولڈر دشمن
"Silent non stakeholders” کی دہشت گردانہ جنگوں میں یہ کیسے ہوپائے گا۔اس سوال کا تسلی بخش جواب کسی دفاعی تجزیہ نگار کے پاس نہیں ہے
واقعی اس دوران کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلے پچاس سالوں میں اگر علاقائی جنگیں ہوئی بھی ہیں تو ایک بنگلہ دیش، دوسری افغانستان، تیسری شام اور اب چوتھی یوکرین اور روس کی حالیہ جنگ ہے۔پہلی تین جنگیں ایک دوسرے سے متعلقہ ہیں اور اس خطے میں امریکہ کی اپنی پیدا کردہ جنگیں ہیں۔جبکہ یوکرینی عوام کی روسی قوم سے نفرت بھی کوئی آج کا واقعہ نہیں ہے۔ جون 1941 میں یوکرین کی عوام نے ہٹلرکی فوجوں کو اپنی سرزمین پر بھنگڑے ڈال کرخوش آمدید کہا تھا یہ اور بات ہے ہٹلر نے یوکرین کے 15 لاکھ یہودیوں کو مار ڈالا تب جاکر یوکرینی عوام نے روس کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں 1945 سے 1991 تک جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان میں کم ہی اموات ہوئی ہیں۔بلکہ اس سے زیادہ تو ہارٹ اٹیک، موٹاپے، ٹریفک کے حادثات یا پھر خودکشیوں سے انسان مرے ہیں۔انسان کا تدبر اس دوران اعلئی میعار کا رہا ہے۔کیونکہ یہ کامیابی انسان کو غیر محسوس طریقے سے ملی ہے اس لیئے اس کی کوئی قدر بھی نہیں ہے۔یہ امن اسلئے بھی قائم رہا ہے کہ وہ پود Generation اس وقت تک زندہ تھی جس نے ایٹمی ہولناکیوں کا مشاہدہ اپنی آنکھوں کے سامنے کیا تھا۔اس جنریشن کو ادراک تھا کہ وہ ایسی جنگوں کا حصہ کیوں بنیں جن کا ایندھن خود ان ہی کو بننا ہے۔
جب تک موجودہ دنیا میں 13080 جوہری بم موجود ہیں اس وقت تک مستقل امن اور پیدار تحمل کی ضمانت کوئی صدر، وزیراعظم یا پھر سائنسدان، بنی نوع انسان کو نہیں سکتا۔بہت سارے ممالک کے پاس یہ ایٹمی اسلحہ اورڈلیوری کا نظام موجود ہے۔کمپیوٹر کی فنی غلطی یا پھر غلط فیصلوں کے نتیجے میں دنیا کے فنا ہونے کا وقت ایک بٹن کے پش ہونے تک کا ہے۔اب تو ہندوستان اور پاکستان کی چپقلش سے زیادہ یوکرین اور روس کے تنازعے میں نیٹو اور روس کی افواج کے درمیان جوہری حملے کی بازگشت زیادہ سنائی دیتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک اہم بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ یورپ کی داخلی جنگیں ماسوائے یوگوسلاویہ اور بلقان ریاستوں کے کوئی نہیں ہوئی ہیں۔ مگر ایسا کوئی لائحہ عمل جس میں عالمی امن کو تحفظ مل سکے بہت ہی ناگزیر ہے۔ابھی تک تو عالمی برادری ایسا کوئی پائیدار مکینزم بنا نے میں ناکام رہی ہے۔ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اب راہنما بھی کٹھور، کند اور غیرجمہوری ذہن کے آرہے ہیں۔ جیوبائڈن، ٹرمپ، پوٹن، لی پنگچنگ ، طیب اردگان،مودی، عمران اور مغرب میں فرانس کے صدر ایمانول ماکرون سمیت سینکڑوں دائیں بازوں کے لیڈر حکمران بن گئے ہیں۔ عالمی لیڈر شپ کا جو بھی میعار ہو مگر عالمی امن کیلئے ایک میکنزم بنانا ان سب کی ذمہ داری ہے جو اس غیر یقینی صورتحال سے ساری دنیاکو چھٹکارا دے سکے۔خاص کر تاریخ کے اس موڑپرجب ساری دنیا ایک ہی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت گزر بسر کر رہی ہو۔


