بلوچستان، سزا صرف عوام کو
تحریر: ارسلان بلوچ
کہنے کو تو بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر اس کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتے ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ صوبہ تعلیم، صحت، روزگار اور جدید سہولیات کے میدان میں مسلسل پیچھے رکھا گیا ہے۔ انہی مسائل میں ایک سنگین اور مسلسل اذیت بننے والا مسئلہ انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروس کی بندش ہے، جو اب ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ عام شہری کے لیے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
بلوچستان میں جیسے ہی کوئی احتجاج، دھرنا یا پرامن مظاہرہ ہوتا ہے، چاہے وہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے لیے ہو، طلبہ کے مسائل پر ہو یا کسی سیاسی جماعت کی جانب سے، سب سے پہلا فیصلہ انٹرنیٹ بند کرنے کا کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کی آواز دبانا ہی سب سے آسان راستہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ بندش اب وقتی نہیں رہی بلکہ ایک معمول بن چکی ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں مہینوں سے موبائل ڈیٹا دستیاب نہیں، جبکہ بعض علاقوں میں برسوں سے لوگ انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے نقصان کس کا ہو رہا ہے۔ نقصان عام مزدور کا ہے جو روزگار کے لیے موبائل پر انحصار کرتا ہے، طالب علم کا ہے جو آن لائن تعلیم سے جڑا ہوا ہے، نوجوان کا ہے جو فری لانسنگ یا آن لائن کام سے گھر چلا رہا ہے، تاجر کا ہے، مریض کا ہے اور ان خاندانوں کا ہے جن کے عزیز بیرون ملک موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ اس بندش سے فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے۔
احتجاج کسی بھی جمہوری معاشرے میں جرم نہیں بلکہ ایک آئینی حق ہے۔ جب عوام کے مسائل حل نہ ہوں، جب ملازمین کی تنخواہیں رک جائیں، جب اساتذہ اور طلبہ کو نظر انداز کیا جائے تو احتجاج مجبوری بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں بھی عوام اسی مجبوری کے تحت سڑکوں پر نکلتے ہیں، مگر ان کے مسائل سننے کے بجائے انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ مسئلہ حل کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف ردعمل سے بچنا مقصد ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ سوالیہ نشان صوبائی اسمبلی کے کردار پر اٹھتا ہے۔ عوام میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے بیشتر افراد حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہیں فارم 47 کے ذریعے لا کر عوام پر مسلط کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی کے فلور پر عوامی مسائل کم اور ذاتی تشہیر، ایک دوسرے پر تنقید اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی کوششیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قانون سازی اور عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کے بجائے کئی ارکان خود کو سوشل میڈیا شخصیات ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ انٹرنیٹ بندش جیسے سنگین اور براہِ راست عوامی مسئلے پر اسمبلی میں کوئی مؤثر مزاحمت نظر نہیں آتی۔ نہ کوئی مضبوط قرارداد سامنے آتی ہے، نہ مسلسل بحث ہوتی ہے اور نہ ہی حکومت سے جواب طلب کیا جاتا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر اسمبلی میں بیٹھے لوگ بھی اس مسئلے پر خاموش رہیں گے تو پھر عام شہری کی آواز کہاں سنی جائے گی۔
بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں رہا۔ کئی مواقع پر کوئٹہ میں انٹرنیٹ بند ہونے سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ آن لائن کاروبار ٹھپ ہو گئے، طلبہ کی کلاسز متاثر ہوئیں، اسپتالوں میں رابطے مشکل ہو گئے اور صحافی بروقت رپورٹنگ سے محروم رہے۔ اگر دارالحکومت میں یہ صورتحال ہے تو دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
تعلیم کے شعبے پر انٹرنیٹ بندش کے اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔ آج تعلیم کا بڑا حصہ آن لائن نظام سے جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں طلبہ داخلہ فارم، لیکچرز، امتحانات اور اسکالرشپس کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ بند ہونے کا مطلب ان کے وقت، محنت اور مستقبل کو خطرے میں ڈالنا ہے، جس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
روزگار کے میدان میں بھی انٹرنیٹ بندش نے نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ بلوچستان کے بہت سے نوجوان محدود وسائل کے باوجود آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار ان کے لیے امید کی کرن ہیں، مگر جیسے ہی انٹرنیٹ بند ہوتا ہے، یہ امید بھی دم توڑ دیتی ہے۔ نہ حکومت ان نقصانات کا ازالہ کرتی ہے اور نہ کوئی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے۔
موبائل کمپنیاں عوام کو مہنگے ڈیٹا پیکجز فروخت کرتی ہیں، مگر انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں نہ پیکج واپس ملتا ہے اور نہ پیسہ۔ یوں عوام کا سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے اور کوئی ادارہ جواب دہ نہیں بنتا، جو کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔
انٹرنیٹ بندش سے صحافت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ صحافی زمینی حقائق بروقت سامنے نہیں لا پاتے، خبریں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور بلوچستان کی اصل صورتحال قومی اور عالمی سطح پر پوری طرح اجاگر نہیں ہو پاتی۔ جب معلومات کا راستہ بند ہو تو سچ بھی دب جاتا ہے۔
عوام میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر کبھی انٹرنیٹ بندش کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر کی جائیں تو فیصلے اکثر کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں اور زمینی سطح پر فوری تبدیلی نظر نہیں آتی، جس سے مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بلوچستان کے عوام نہ دشمن ہیں، نہ باغی اور نہ ہی ریاست کے مخالف۔ وہ صرف اپنے جائز اور آئینی حقوق مانگتے ہیں۔ انٹرنیٹ بندش نہ مسائل کا حل ہے اور نہ ہی امن کی ضمانت۔ یہ صرف عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھاتی ہے۔


