پنجگور، جہاں انٹرنیٹ ایک خواب ہے

تحریر : اللہ داد اظہر

یہ وہ دور ہے جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت, 5G, 10G اور آن لائن دنیا میں داخل ہو چکی ہے، مگر بلوچستان کا ضلع پنجگور آج بھی انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ پنجگور میں انٹرنیٹ ایک سہولت نہیں بلکہ ایک خواب بن چکا ہے، جہاں موبائل ڈیٹا، پی ٹی سی ایل یا فائبر آپٹک، ہر ڈیجیٹل راستہ آ کر بند ہو جاتا ہے۔


سن 2015 میں پنجگور میں پہلی بار 3G متعارف کرایا گیا اور بعد ازاں 4G بھی آیا، مگر یہ سہولت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 2019، 2020، میں بار بار معطل کر دی گئی اور پھر 2022 سے لیکر آج کے دن تک معطل ہے۔ اس 4 سال کیے مسلسل انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندش کے تسلسل کو توڑنے کے لیے حالیہ مثال میں 2025 ستمبر میں چند دن بحالی کے بعد محض دس دن میں سروس دوبارہ بند کر دی گئی۔ نتیجتاً گزشتہ چار برسوں سے پنجگور میں موبائل ڈیٹا عملاً بند ہے اور اس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔


ان بندشوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے آئی ہے۔ ڈیٹا سروس جب چاہی بند اور جب چاہی بحال کر دی جاتی ہے، جس کے باعث عوام مستقل غیر یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔


پی ٹی سی ایل کی ڈی ایس ایل سروس محدود، پرانی اور نہایت کم رفتار ہے، جبکہ پورے ضلع میں کہیں بھی فائبر آپٹک کنکشن دستیاب نہیں۔ کئی علاقوں میں ایک ہی انٹرنیٹ پوائنٹ سے بمشکل سو گھروں کو کنکشن مل پاتا ہے، جبکہ ضرورت ہزاروں کی ہے۔ اس صورتحال میں یا تو لوگ انٹرنیٹ سے محروم رہتے ہیں یا پھر مہنگے آلات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کے زریعے وہ اپنے رشتدار یا کسی جاننے والے سے کنکشن لاتے ہیں .


پنجگور ایک غیر اعلانیہ انٹرنیٹ مافیا کا بھی شکار ہے، جہاں بعض افراد نے اس محرومی کو باقاعدہ کاروبار بنا لیا ہے۔ ایک انٹرنیٹ کنکشن پوائنٹ کے تمام کنکشن کسی ایک شخص کے پاس ہوتے ہیں، جو بعد ازاں ڈسٹری بیوشن ڈیوائسز کے ذریعے مختلف گھروں اور افراد کو ماہانہ رقم کے عوض فراہم کیے جاتے ہیں۔


پنجگور میں نجی سطح پر وائرلیس فائبر سروس دستیاب تو ہے، مگر اس کی قیمت عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ تنصیب کے لیے تقریباً ایک لاکھ روپے اور ماہانہ ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں، وہ بھی غیر مستحکم اور غیر متوازن اسپیڈ کے ساتھ۔


اس ڈیجیٹل محرومی نے صحافت، تعلیم اور کاروبار تینوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خبری مواد وقت پر نہ پہنچنے کے باعث غیر مؤثر ہو جاتا ہے، آن لائن کاروبار بار بار رک جاتا ہے، اور طلبہ ڈیٹا پیکجز خریدنے کے باوجود انٹرنیٹ استعمال نہیں کر پاتے۔


یہ ڈیجیٹل بلیک آؤٹ پنجگور کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر چکا ہے۔ دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیاں ایسی سروس کے نام پر ہر ماہ کروڑوں روپے کماتی ہیں جو زمینی حقیقت میں فراہم ہی نہیں کی جا رہیں۔ یہ محض انٹرنیٹ بندش کا مسئلہ نہیں بلکہ پنجگور کے عوام کے ڈیجیٹل حقوق کی منظم نفی ہے، جہاں لوگ آج بھی تکنیکی محرومی، ادارہ جاتی غفلت اور کارپوریٹ استحصال کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں