یہ تاثر کہ ایران کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پی ٹی وی

ویب ڈیسک : سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق سینیئر سکیورٹی عہدیدارنے ایران جنگ کے حوالے سے کہا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی جبکہ پاکستان نے ایران کے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح بیان کیے۔سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق پاکستان ایک مستحکم اور پ±رامن ایران کا خواہاں ہے، یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے، پاکستان متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، ہمارا موقف عوامِ کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے، پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔

سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے بتایاکہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ معرکہحق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کرچکا ہے، پاکستان کی مسلح افواج قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی، اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کی پیدا غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹیجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، پاکستان کی آئی ایس ایف میں شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں