تربت میں نجی اسکولوں کا والدین سے تین ماہ کی ایڈوانس فیس وصول کرنا کھلی نا انصافی ہے، بی ایس او پجار
تربت (نمائندہ انتخاب) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) تربت نے ضلع کیچ کے بعض پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس ایڈوانس وصول کرنے کے عمل پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے کھلی ناانصافی اور استحصالی اقدام قرار دیا ہے۔ بی ایس او تربت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف نجی تعلیمی ادارے والدین کو مارچ کی فیس کے ساتھ اپریل اور مئی کی فیس یکمشت جمع کروانے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ جون اور جولائی کی فیس بھی پیشگی ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بعض اسکول انتظامیہ کی جانب سے یہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں کہ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں بچوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جو تعلیم جیسے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ضلع کیچ کے عوام پہلے ہی سرحدی بندش (بارڈر بند) اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ کاروبار متاثر ہے، روزگار کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں اور عام آدمی کی آمدن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں تین سے چار ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ جب والدین بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں تو اسکولوں کی جانب سے یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بی ایس او تربت نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا کئی ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود ہے یا نہیں۔ اگر اس عمل کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو اسے فی الفور روکا جائے اور ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس یا تو مکمل معاف کی جائے، یا اسے نصف کر دیا جائے، یا کم از کم ہر مہینے کی فیس الگ الگ وصول کی جائے اور کئی ماہ کی ایڈوانس وصولی کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ والدین کو فوری ریلیف مل سکے۔ بیان کے آخر میں بی ایس او تربت نے خبردار کیا کہ اگر والدین اور طلبہ کو معاشی و ذہنی دباو¿ میں رکھنے کا سلسلہ جاری رہا تو تنظیم خاموش نہیں رہے گی اور ہر جمہوری و آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے بھرپور احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔


