کاریزات کو ضلع بنانے کے معاملے پر دھرنا کمیٹی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد احتجاج موخر کردیا
پشین (این این آئی) بلوچستان حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی کاریزات کو ضلع بنانے کے معاملے پر دھرنا کمیٹی کیساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے دھرنا کمیٹی کے شرکاءنے حکومتی یقین دہانی پر احتجاج موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنا ختم کردیا جبکہ مزید معاملے پر کمیٹی میں بات چیت اور مشاورت پر اتفاق کیا گیا گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ و چیئرمین کمیٹی میرضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی مذاکراتی وفد خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنے میں پہنچے اس موقع پر کمیٹی کے ممبران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ ، اپوزیشن رکن اسمبلی اصغر خان ترین ، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ سمیت دیگر حکام موجود تھے اس موقع پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے کاریزات کو ضلع بنانے کے معاملے پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت قبائلی عمائدین پر مشتمل دھرنا کمیٹی کیساتھ تفصیلی مذاکرات کئے اور دھرنے میں شریک ہوئے اس موقع پر دھرنے کے شرکاءنے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی یقین دہان پر احتجاج دس روز کے لئے موخر کرکے خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنا ختم کردیا اور قومی شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق مزید حکومتی مذاکراتی کمیٹی کیساتھ نشست ہونے پر بھی اتفاق کیا گیا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا لی ہے جس میں دھرنے کے شرکاءکمیٹی کو بھی مدعو کرکے کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق تفصیلی غوروخوص اور مشاورت کی جائے گی اور اپنے سفارشات تیار کرکے بلوچستان کابینہ کے سامنے پیش کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ کاریزات کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو ہماری درخواست پر دھرنا ختم کرنے پر شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہیں حکومت کی کوشش ہوگی مذاکراتی کمیٹی میں جو بھی سفارشات تیار ہوگی اس پر عملدرآمد ہو کیونکہ کاریزات کے لوگ بھی ہم میں سے ہیں اس لئے آج اور کل حکومتی وفد خود آپ لوگوں کے پاس آئے کیونکہ ہر مسئلہ کا حل بات چیت اور مذاکرات میں ہی رکھا گیا ہے جس کے لئے ملکر آئندہ بھی کوشش کی جائے گی۔


