خضدار میں زائد المیعاد اور مضر صحت اشیائے خوردونوش کی کھلے عام فروخت، ناقص خوراک سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ، عوامی حلقوں کی تشویش

خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار شہراور گردونواح میں زائد المیعاد اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا، شہرکی تھوک و پرچون دکانوں، کریانہ اسٹورز اور ٹھیلوں پر بسکٹ چپس، کیچپ، جوسز، مصالحہ جات، بچوں کی ٹافیاں اور دیگر پیک شدہ اشیاءبغیر کسی خوف و خطر کے فروخت کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اشیاءکی بڑی تعداد کی میعاد کئی ماہ قبل ختم ہوچکی ہے جبکہ کئی پیکٹس پر میعاد کی تاریخ سرے سے درج ہی نہیں، حیران کن طور پر کچھ دکانداروں کی جانب سے ایکسپائری ڈیٹ کو کھرچ کر یا مارکر سے مٹاکر نئی تاریخ ڈالنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ خضدار میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی،اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے منافع خور عناصر عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں عوامی حلقوں نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ہم مجبور ہیں صاف ستھری اور معیاری چیز مارکیٹ میں ملتی ہی نہیں، بچوں کو زہر آلود چپس بسکٹ دینا پڑتا ہے، ڈر لگتا ہے کہ کہیں انہیں کوئی بڑی بیماری نہ لگ جائے۔ ماہرین کے مطابق زائد المیعاد اشیاءکا استعمال فوڈ پوائزننگ اسہال، قے، معدے کے السر، ہیپاٹائٹس اور جگر و گردوں کے امراض کا سبب بن سکتا ہے، بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ اشیاءجان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں، روزانہ کی بنیاد پر فوڈ پوائزننگ کے کئی کیس رپورٹ ہورہے ہیں جن کی بڑی وجہ ناقص خوراک ہے، دوسری جانب مصالحہ جات کا حال اس سے بھی بدتر ہے، کھلے مصالحوں میں اینٹوں کا برادہ اور خطرناک رنگوں کی ملاوٹ کی شکایات عام ہیں یہ ملاوٹ شدہ مصالحے تھوک کے حساب سے شہر کی بڑی دکانوں پر سپلائی کیے جارہے ہیں، جہاں سے یہ پورے ضلع میں پہنچتے ہیں، تاجروں کے ایک گروپ کا مو¿قف ہے کہ انہیں سپلائی کرنے والی کمپنیاں اور ڈسٹری بیوٹرز ہی زائد المیعاد مال دے جاتے ہیں اگر ہم واپس کریں تو نقصان ہمارا ہوتا ہے، اس لیے مجبوراً بیچنا پڑتا ہے، تاہم شہری اس دلیل کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دکاندار کا فرض ہے کہ وہ مال چیک کرکے رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں