بولان ڈیم کےلئے منظور شدہ 70 کروڑ روپے میں سے 34 کروڑ روپے بیکڑ منتقل کرنا قابل مذمت ہے، سردار یار محمد رند
کوئٹہ( آن لائن) سینئر سیاستدان سابق وفاقی و صوبائی وزیر سردار یار محمد رند نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں بولان ڈیمز کے لئے منظور شدہ 70 کروڑ روپے میں سے 34 کروڑ روپے بیکڑ منتقل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی مخدوش حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کرکے حکومت اور دیگر حکام کیلئے مشکلات پیدا کرنے سے گریزاں ہے اس لئے کہتے ہیں کہ جن علاقوں کے لئے جو فنڈز منظور کئے جاتے ہیں وہ وہاں کے منصوبوں پرخرچ کرکے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بناکر ان کے ثمرات عوام تک منتقل کئے جائیں تاکہ صوبے کے حالات میں بہتری لائی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شب پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماءسردار نور احمد بنگلزئی کی جانب سے قبائلی سرداروں ، معتبرین ، معززین کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر ”آن لائن“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر میر محمد عارف جان محمدحسنی، سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری، ڈسٹرکٹ چیئرمین کچھی میر بیبرگ خان رند، سردار چنگیز خان ساسولی، سردار عاصم سرپرہ، سردار لیاقت کرد، ملک اکرم خان بنگلزئی،سردار زادہ بلوچ خان گورگیج،میر قادر بنگلزئی،سردارزادہ میر محمد بنگلزئی،میر غلام حیدر بنگلزئی،ملک سیف اللہ شاہوانی،ملک حسیب بنگلزئی، توقیر الحق،آصف نواز کھوسہ حاجی غلام جان حسن زئی، عابد خان گورگیج،میر محمد محمدحسنی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری سندھ کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں پہلے ان کے والد اپنے قبیلے کے سردار تھے اور اب آصف علی زرداری سردار ہےںصدر مملکت آصف علی زرداری بلوچستان کے مخدوش حالات کو بہتر بنانے میں اپنی صلاحیتوں سے حالات کو بہتر بناسکتے ہیں کیونکہ سندھ میںان کا ایک بہت بڑا بلوچ قبیلہ ہے اور وہ بلوچ ہونے کے ناطے بلوچستان کے لوگوں میں پائے جانے والے حساس محرومی اور صوبے کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے ایک وژن رکھتے ہیں اور وہ خود طاقتور حلقوں کے ساتھ ملکر ایک موثر کردار ادا کرکے بلوچستان میں پھیلی ہوئی بد امنی، انتشار کو ختم کرکے پر امن ترقی یافتہ بلوچستان کا خواب شرمندہ تعبیر بناسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے پہلے بھی بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اب بھی کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پی ایس ڈی پی میں میرے حلقے میں واقع بولان ڈیم کے لئے منظور شدہ 70 کروڑ روپے میں سے کٹ لگاتے ہوئے 34 کروڑ روپے ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ منتقل کردیئے ہیں جو تشویشناک امر ہے ہمیں بلوچستان کے حالات کی سنگین اور بحرانی کیفیت کا بخوبی ادراک ہے ورنہ اس امر کے خلاف سخت رد عمل دیتے ہوئے اپنی قوم اور حلقے کے لوگوں کے ہمراہ سڑکوںپر سراپا احتجاج ہوتے لیکن حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس وقت صوبہ احتجاج کا متحمل نہیںہے اور حکومت کو بھی ایسے کشیدہ حالات کا ادراک رکھتے ہوئے جن علاقوں میں منصوبوں کے لئے جو فنڈز منظور کئے جاتے ہیں وہ متعلقہ علاقوں میں عوام کی فلاح و بہبود ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرکے انہیں بروقت مکمل کرکے ان کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں تاکہ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں اس طرح کے اقدامات سے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید پستی اور خرابی کی جانب بڑھیں گے۔


